تحریر : سید اقبال یوسف زئی
کہتے ہیں اج سے کئی سو سال پہلے ایک شہر ہوا کرتا تھا جہاں پر کوئی پرسان حال نہیں ہوتا تھا اندھیر نگری ہوتی تھی اور جس کا جو بھی من کرتا تھا وہ وہی کرتا کوئی قانون کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں ہوتی تھی جس میں جتنی طاقت ہوتی تھی وہ پر وہ اتنی ہے استعمال کرتا اور اپنے سے کمزور شخص کو قتل کردیتا تھا مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا تھا اج بھی وہ حال ہے جس میں جتنی طاقت ہوتی ہے وہ اتنی ہے چالیں چلتا ہے اورا پنی من مرضی کرتا ہے دو سال پہلے میری اہلیہ وفات پاگئیں جس مرحومہ نے دو معصوموں اور مجھے سوگواروں میں چھوڑا بدقسمتی سے اسکے کچھ پیسے ایم سی بی بینک میں سیدو شریف میں رہ گئے، بینک کو میں وفات کے اٹھارہ دن بعد مطلع کیا جس پر مطلقہ بینک کے مینجر نے میرے ساتھ بیٹھ کر فاتحہ خوانی کی پھر میں نے دو ماہ بعد بینک کو باقاعدہ درخواست دی کہ مرحومہ کی وارثین کو اس کا حق دیا جائے اس وقت سے لیکر اج دو سال پورے ہونے تک مطلقہ بینک نے مجھے چکروں پر چڑاے رکھا اور دو سال گزرنے کے باوجود نے میں اپنے بچوں کا حق مطلقہ بینک سے نہیں لے پایا مطلقہ بینک نے دو مرتبہ مجھ پر سیکسیشن سرٹیفکیٹ بنوائے جس پر وکیل سمیت ہزاروں روپے کا خرچ آیا لیکن پھر بھی مطلقہ بینک مطمئن نہیں ہوسکا اس کے بعد مجھے ضمانت کے طورپر آٹھ بندوں کے اسٹامپ پیپر ز پر ضمانت نامی بھی جمع کرانے پڑے لیکن پھر بھی بینک کی تسلی نہ ہوسکے اس دوران بینک میں موجود مرحومہ کی پیسوں سے کسی نے جعلی دستخط پر پیسے نکالے اور میرے بینک کو اطلاع دینے کے بعد بینک نے کہا کہ ہم کوشش کرینگے کہ وہ رقم واپس جمع کرائے جائے لیکن پتہ نہیں کہ میجنر نے کہا ں سے اور کیسی وہ پیسے واپس بینک میں جمع کردئے تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جس نے بینک کے ساتھ فراڈ کے کیا وہ بینک کے قانون کے کسی ذمرے میں نہیں ایا اور متعلقہ مینجر نے سا ز باز کرکے وہ پیسے متلعقہ شخص واپس جمع کرکے کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ اس معاملے کو وہاں دبادیا پھر ایم سی بی سیدو شریف اور مین برانچ ایم سے بی مینگورہ میں چھٹیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا میں اپنے مسلئے کو لیکر جس بھی بینک اہلکار کے پاس جاتا وہ پندرہ سے لیکر پانچ دن تک چھٹیوں پر رہتا پہلے ایم سی بی سیدوشریف کے منیجر پندرہ دن چھٹیوں رہی پھر اس کے بعد مین برانچ کے اہلکاروں کے چھٹیاں یکے بعد دیگرے شروع ہوگے اور مہینوں کے مہینوں میں ایم سی بی کے طواف کرتا رہا لیکن پھر بھی بینک میرا مسلہ حل کرنے میں ناکام رہا ایم سے بی سیدو شریف عوام کیلئے در سر بن چکا ہے اور اس میں صارفین کا برا حشر کیا جاتا ہے میں نے بذات خود دیکھا ہے کہ بینک ملازمین صافین کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں اتنا ایک برا حشر شروع ہوچکا ہے کہ ہر دوسرا بندہ ایم سی بی سیدوشریف سے نالا ں نظر آتا ہے بینک مینجر صاحب جو سروس کے اخری مراحل میں ہے ان کو کسی بھی بات کا کوئی علم نہیں ہوتا لیکن روزانہ صارفین کو اور انکے مسائل کو ٹالتے نظر آتے ہیں اور ایسے لہجے میں بات کرتے ہیں جیسے کہ وہ تمام صافین کو اپنے جیب سے پیسے دے رہے ہوں یہی وجہ سے کہ متعلقہ ایم سی بی برانچ سیدو شریف روز بہ روز ویران ہوتا جا رہا ہے میں چونکہ سوا ت صحافت سے پچھلے دس گیارہ سالوں سے جڑا ہوا ہو ں اور سوات کے ہر برے ااور اچھے اوقات میں اپنے صحافتی ذمہ داریاں پورے کی ہے میں اج تک اتنا برا حال کسی بھی بینک کا نہیں دیکھا جو اس وقت ایم سی بی سیدو شریف مینگورہ کاہورہا ہے اور قریب ہے کہ بینک اہلکاروں کی وجہ سے بینک بند ہوجائے میں ایم سی بی بینک پاکستان کے تمام اعلی ٰ عہدیداران سے اپیل کرونگا کہ سوات سیدوشریف مینگورہ کے بینک کے اہلکاروں سے فوری جواب طلبی کرے اور انہی بینک اور بینکاری کے بارے میں خصوصی تعلیم دے کر انہیں کم از کم عوام کے ساتھ اپنے رویوں کو بہتر بنانے میں مدد دے جائے اور ان بینک اہلکاروں کو فوری طورپر بینک سے نکالا جائے جو بینک کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
768 total views, no views today


