پاک چین اقتصادی کوریڈور ایک ایسا طویل المیعاد منصوبہ ہے جو نہ صرف پاکستان کی تیز رفتار اقتصادی ترقی و معاشی خوشحالی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ مستقبل میں وطن عزیز کے لیے اس کے بطن سے نہ ختم ہونے والے مزید فوائد بھی جنم لیں گے۔ یہ منصوبہ آنے والے وقتوں میں بھارت، ایران، سنٹرل ایشیاء اور روس کے لیے بھی اقتصادی ثمرات کا حامل ثابت ہوگا اور ان اقتصادی ثمرات میں پاکستان کے فوائد سب سے زیادہ ہوں گے۔ لیکن اس منصوبہ کو ہمارے موجودہ حکمران متنازعہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس وقت اس منصوبہ کے حوالے سے مغربی روٹ اور مشرقی روٹ کا تنازعہ پیدا ہوچکا ہے۔ اصل نقشہ جو پہلے پاکستان اور چین نے باہمی طور پر منظور کرلیا تھا، اسے چھپا لیا گیا ہے اور مغربی روٹ میں آنے والے علاقے جو گلگت بلتستان سے لے کر خیبر پختون خوا اور پھر بلوچستان سے ہوتے ہوئے گوادر تک پھیلے ہوئے ہیں، پنجاب سے تعلق رکھنے والے موجودہ حکمران انھیں نظر انداز کرکے زیادہ فائدہ پنجاب کو دینا چاہتے ہیں۔ پنجاب بھی وطن عزیز کا حصہ ہے بلکہ بہت ہی خاص حصہ ہے۔ اس کی ترقی بھی پورے ملک کی ترقی کی ضامن ہے لیکن دوسرے صوبوں کا حق مارکر اسے خصوصی طور پر نوازنا دوسرے صوبوں میں احساسِ محرومی کو مہمیز دینے کے مترادف ہے۔
یہ پراجیکٹ جتنی اہمیت پاکستان کے لیے رکھتا ہے، اس سے زیادہ چین کے لیے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے تحت گوادر کی پورٹ کو چائینہ سے ملانا مقصود ہے، تاکہ چین کو اپنی انڈسٹریل، کنزیومر اور دفاعی تجارت کے لیے ایک سستا، آسان، محفوظ اور تیز راستہ میسر آسکے۔ اس منصوبے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ سب سے اہم اور بنیادی حصہ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کا ہے جس میں سڑکیں، موٹرویز اور ریلوے نیٹ ورک بنائے جائیں گے۔ دوسرا اہم حصہ انرجی انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے جس میں کاریڈور کے مختلف مقامات پر بجلی پیدا کرنے کے پراجیکٹس لگیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ گیس اور تیل کی پائپ لائنز بچھائی جائیں گی جو ایران، روس، سنٹرل ایشیاء اور قطر تک جائیں گی۔ اس منصوبے کا تیسرا اہم حصہ گوادر پورٹ کی ڈیویلپمنٹ، توسیع اور مکمل آپریشنل ہونا ہے جس کے نتیجے میں یہ دبئی سے بڑھ کر تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا۔ ظاہر ہے ان تمام ترقیاتی کاموں کی وجہ سے پاکستان میں صنعتی، اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی، روزگار کے لامحدود مواقع پیدا ہوں گے اور یہ کوریڈور جہاں جہاں سے گزرے گا، وہاں ترقی اور خوشحالی کے نئے نئے در وا ہوتے چلے جائیں گے۔
چین کی حکومت نے 45 بلین ڈالر کے اس پراجیکٹ سے متصل پاکستان میں ترقیاتی منصوبے شروع کرانے کے لیے 15 بلین ڈالر کا بلاسود قرضہ بھی فراہم کرنا ہے لیکن وفاقی حکومت مشرقی روٹ پر فوری کام کا آغاز کرکے یہ رقم پنجاب کے علاقوں میں بنائے جانے والے منصوبوں پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔ حالاں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ علاقے جو ایک طویل عرصہ سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کا شکار چلے آ رہے ہیں، مسلسل دہشت گردی کی وجہ سے جن کا انفرا سٹرکچر تباہ ہوچکا ہے اور جہاں اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہوچکی ہیں، یہ رقم مغربی روٹ کے ان پس ماندہ علاقوں پر خرچ کی جانی چاہئے لیکن پنجاب کے حکمران ان علاقوں کو شاید دانستہ طورپر پس ماندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کے حکمرانوں کی اس کھلی زیادتی کے خلاف خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے سیاست دانوں نے جب مختلف فورمز پہ آواز بلند کی، تو 28 مئی 2015ء کو وزیراعظم نے اپنی صدارت میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی جس میں انھوں نے تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں اور پوری قوم کے سامنے اعلان کیا کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر پہلے کام شروع کیا جائے گا لیکن زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ مغربی روٹ کو نظر انداز کرکے مشرقی روٹ پر کام کا آغاز کیا جاچکا ہے اور جب اس کے خلاف سیاسی اور عوامی سطح پر آوازیں بلند کی گئیں، تو 30 دسمبر 2015ء کو وزیراعظم نواز شریف نے ژوب ہائی وے کا افتتاح کرتے ہوئے قوم کو یہ تاثر دیا گویا وہ معاشی راہداری کے مشرقی روٹ کا افتتاح کر رہے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ژوب ہائی وے کی تعمیر و مرمت ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا منصوبہ ہے۔ اس معاشی راہداری کے حوالے سے احسن اقبال کے متضاد بیانات اور نواز شریف کی وعدہ خلافی کی وجہ سے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے کل جماعتی اجلاس طلب کیا جس میں بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے کچھ قراردادیں پیش کی گئیں اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف گزشتہ سال 28 مئی کو اپنی صدارت میں ہونے والی اے پی سی کے متفقہ قرارداد کے اعلامیہ پر من و عن عمل اور اقتصادی راہدی کے مغربی روٹ پر کام کرنے کا وعدہ پورا کریں۔ ان اختلافات کا شور جب کچھ زیادہ ہی بلند ہوا، تو اسلام آباد میں چین کے سفارت خانہ کو بھی بیان جاری کرنا پڑا کہ پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر تمام حلقوں کے درمیان اختلاف کو بات چیت کے ذریعے ختم کرکے سازگار ماحول پیدا کرے۔
یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ جب کسی علاقے کو اپنے جائز آئینی حقوق سے محروم رکھا جائے گا، تو وہاں پس ماندگی، جہالت اور غربت جنم لے گی اور اس کے نتیجے میں احساسِ محرومی پیدا ہوگا۔ جب اس کا بروقت سدباب نہیں کیا جائے گا، تووہاں بداَمنی اور علاحدگی کی تحریکیں شروع ہوں گی اور یہ سب کچھ ہم بلوچستان میں دیکھ رہے ہیں۔ اس کے کچھ مظاہر ہمیں صوبہ خیبرپختون خوا میں طالبان کی شکل میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ طالبان اور انتہاپسندی کا بیج طاقت ور ریاستی ادارے نے بویا تھا لیکن اس میں وہی لوگ شامل ہوگئے جو تعلیم سے محروم تھے، بے روزگار تھے اور جن کے علاقے ایک طویل عرصہ سے ترقیاتی عمل سے باہر رکھے گئے ہیں۔ اب بھی خیبر پختون خوا کے بعض علاقے اور وزیرستان کے سارے علاقے پس ماندگی، غربت اور بے روزگاری کا شکار ہیں اور وہاں پہ غریب قبائلی پختونوں کو آئینِ پاکستان کے تحت حقیقی جمہوری اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ وزیرستان کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انھیں یا تو الگ صوبہ کی حیثیت سے باوقار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کئے جائیں اور یا انھیں خیبر پختون خوا میں شامل کرلیا جائے لیکن حکمران ان کے اس جائز مطالبہ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
پاک چائینہ کوریڈور کے ذریعے چین اپنے اقتصادی اور سیاسی عزائم کی تکمیل کے علاوہ اپنے مغربی پس ماندہ علاقوں کو ترقیاتی عمل میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ وہاں کے عوام محرومیوں کی وجہ سے مذہبی و لسانی تحریکوں کے ذریعے افراتفری کا شکار رہے ہیں لیکن چین نے وہاں کسی فوجی آپریشن کی بجائے اقتصادی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کی محرومیاں دور کرنے پر توجہ دی۔ اس طرح اگر ہم وطن عزیز میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ خیبر پختون خوا میں مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور بلوچستان میں علاحدگی پسندگی کا توڑ کیا جائے، تو وفاقی حکومت کو پاک چائنا کوریڈور کے تحت مشرقی روٹ پر اصل نقشہ کے مطابق کام شروع کرنا چاہئے اور وہاں کے عوام کے احساسِ محرومی کا خاتمہ کرنا چاہئے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کی شکل میں قدرت نے ہمیں نہ صرف وطن عزیز کو اقتصادی اور معاشی طور پر ترقی دینے کا شاندار موقع فراہم کیا ہے بلکہ جمہوری اور عسکری حکمرانوں کو بھی یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس عظیم پراجیکٹ کے ذریعے دہشت گردی، انتہاپسندی اور علاحدگی پسندی کے شکار علاقوں کو معاشی طور پر خوشحال کرکے انھیں پاکستان کے وفاق کی مضبوط اکائیاں بنائیں۔ نواز شریف مشرقی روٹ کی آڑ میں اپنے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے کے لیے وفاقِ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پنجاب بڑے بھائی کی حیثیت سے پس ماندہ علاقوں کی ترقی اور ان کے احساسِ محرومی کو دور کرنے کے لیے دور اندیشی کا مظاہرہ کرے۔ ورنہ بقول اختر مینگل: ’’آئین بنتے اور ٹوٹتے بھی ہیں لیکن ملک ٹوٹنے کے بعد دوبارہ اکھٹا نہیں ہوسکتا۔‘‘ اور اس کی زندہ مثال ہم سب کے سامنے مشرقی پاکستان کی ہے۔
822 total views, no views today


