مولانا اشرف علی تھانویؒنے ۱۴ رجب سنہ ۱۳۳۷ھ کو بھوپال ہاؤس لکھنؤ میں ڈیڑھ ہزار مجمع کے سامنے پونے پانچ گھنٹے کی ایک یادگار وعظ فرمائی جسے محمد یوسف ولد مردان علی سکنہ محلہ قاضیان بجنور نے قلمبند کیا تھا اور اب خطبات حکیم الامت میں احکام المال کے نام سے آٹھویں جلد (حقیقت مال و جاہ) میں درج ہے۔ اسی وعظ میں مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ایک صاحب بہادر کا قصہ بھی سنایا کہ ایک صاحب بہادر نے اسباب اٹھانے کے لئے سٹیشن پر ایک قلی لیا اور مزدوری میں اس کو دونی دی۔ وہ تھی کھوٹی۔ قلی نے کہا کہ صاحب، اس کو بدل دیجئے، نہیں چلے گی۔ صاحب بہادر نے کہا کہ چلے گی کیوں نہیں۔ قلی نے کہا کہ صاحب کیسے چلے گی؟ یہ تو کھوٹی ہے۔ اس پر صاحب بہادر نے انتہائی ظالمانہ جواب دیا: ’’جیسے ہم نے چلادی تم بھی چلادینا۔‘‘
آج جب سکرین پر بریکنگ نیوزدیکھی کہ سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے والی ویڈیو کو آٹھ سال بعد جعلی قرار دے کر سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا، تو بے اختیار وہ صاحب بہادر یاد آیا جس نے کھوٹی دونی چلالی تھی۔
یہ اپریل 2009ء کا واقعہ تھا کہ جب یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی اور میڈیا میں مقبول عام کی سند پانے کے بعد پورے ملک میں ایک ہنگامہ کھڑا کیا۔ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسے پاکستان کی تشخص کو مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا تھا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا تھا کہ اسلام ہمیں خواتین کے ساتھ شائستگی اور حسن سلوک کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے خواتین کے تحفظ کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور ان کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاکہ اس قسم کے واقعات ملک کے دیگر حصوں میں نہ ہونے پائیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں نے پورا دن مسلسل یہ ویڈیو چلائی جس میں ایک سترہ سالہ لڑکی کو دن دیہاڑے مقامی افراد کی موجودگی میں چونتیس کوڑے مارے گئے۔ بظاہر ایک موبائل سے لی گئی اس ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ ایک لڑکی کو جس نے نیلے رنگ کا برقع پہنا ہوا ہے، اوندھے منہ لٹایا گیا ہے۔ دو آدمیوں نے اس کے ہاتھوں او رپاؤں کو زمیں کے ساتھ لگائے ہوئے ہیں اور اس پر اسی طرح زور ڈال رہے ہیں کہ وہ حرکت نہ کرسکے جبکہ سر پر پھگڑی باندھے ہوئے ایک باریش شخص اس پر کوڑے برسا رہا ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ ابتدائی چند کوڑوں کے بعد لڑکی نے چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کیا لیکن کوئی مدد کے لئے آگے نہ بڑھا۔ لڑکی پشتو زبان میں پکارتی رہی ’’اسے روکیں، خدا کے لئے اسے روکیں۔ میں مررہی ہوں!‘‘ لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ آف کیمرہ ایک شخص ان مبینہ طالبان اہلکاروں کو حکم دے رہا تھا کہ ’’اس کے پاؤں مضبوطی سے پکڑو اور اس کا برقع تھوڑا اٹھادو۔‘‘ سرعام کوڑے مارنے کے بعد اس خاتون کو مسلح افراد کا ایک گروہ ایک قریبی عمارت تک گھسیٹ لیتا ہے۔ اس ویڈیو کو کئی چینلوں نے دن بھر مختلف زاویوں سے دکھایا اور اس پر گرما گرم بحثیں ہوئیں۔
خواتین سیاستدان، دفاعی تجزیہ نگار، سیاسی مبصرین، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے انجمنوں نے اس واقعے پر گرما گرم بحث کی۔ عاصمہ جہانگیر نے اسے ناقابل برداشت کہا اور صوبائی اور وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ انہوں نے شہریوں کو انتہا پسندوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اقبال حیدر نے کہا کہ’’ مشرف نے طالبان کے ساتھ چھ معاہدے کئے جبکہ دو معاہدے اس کے بعد ہوئے۔ سیاست دان ریاست کو دہشت گردوں کے حوالے کررہی ہے۔‘‘ اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا: ’’صدر مملکت بربریت پر مبنی اس واقعے پر انتہائی افسردہ ہیں اور انہوں نے حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔‘‘ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نے اس واقعہ کو آئین کی کھلی خلاف ورزی اور انسانیت کی تذلیل کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سفاکانہ واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانا چاہئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کوڑے مارنے والوں کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا۔ واقعہ کو وحشیانہ قراردیا اور اگلے دن کو یوم سیاہ منانے کا اعلان بھی کیا۔ اگرچہ اس وقت کے مشیر داخلہ امور رحمان ملک ایک انتہائی متنازعہ شخصیت کے طور پر میڈیا میں پیش کئے جاتے تھے لیکن انہوں نے بہرحال جو بیان دیا وہ آخرکار سچ ہی ثابت ہوا۔ اس وقت وہ سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ رحمان ملک نے کہا تھا کہ ہم تحقیقات کر رہے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی کبھی ریاست مخالف عناصر جعلی یا مصنوعی فوٹیج یا تصاویر پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں لہٰذا اصل حقائق کا پتہ تحقیقات کے بعد چل جائے گا۔‘‘ بالآخر سپریم کورٹ نے بھی اس پر سو موٹو ایکشن لیا۔
اس واقعے کو ہر مکتبہ فکر نے اپنے بساط کے مطابق استعمال کیا۔ اگرچہ کالعدم تنظیموں کی طرف سے بھی ایسے بیانات آئے اور اسلامی جماعتوں کے سربراہوں اور مختلف مکتبہ فکر کے علما نے بھی برملا اعلان کیا کہ اسلام میں سزا دینے کا ایسا کوئی طریقہ نہیں لیکن اس واقعے کی آڑ میں اسلامی سزاؤں پر خوب بحث کی گئی اور طنز و تشنیع سے کام بھی لیا گیا۔ اگرچہ ملک میں اسلامی تعذیرات کے نفاذ کا کوئی عملی پروگرام تو زیر غور تھا ہی نہیں لیکن پھر بھی ٹاک شوز اور سیمینارز میں خواہ مخواہ ان موضوعات کو ناہنجاروں اور اسلامی قوانین سے نابلد ماہرین کے ذریعے اسلامی نظام اور اسلامی سزاؤں کے طریقۂ کار پر ایک غیر ضروری بحث چھیڑ دی گئی، تاکہ اسلام کو ایک ’’بھوت‘‘ بنا کر پیش کیا جائے اور نئی نسل کے ذہن میں اسلام کے حوالے سے ایک خوف ڈالا جائے۔ اسلام اور اسلام پسندوں کے بعد اس جیسے واقعے کو لے کر سب سے زیادہ جنھیں زچ کیا گیا وہ سواتی عوام تھے۔ ہوٹلوں میں سیمینار ہوں یا رشتہ داروں کے ہاں دعوت، لاری اڈہ ہو یا بس سٹاپ، دفتری ماحول ہو یا کاروباری مراکز، ہر جگہ میں ہم سواتیوں کو دیگر پاکستانی اس طرح دیکھتے تھے جیسے ہم آدم خور قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں۔ مجھے دوسروں کازیادہ نہیں معلوم لیکن جب یہ واقعہ ہوا، تو میں اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں شریک تھا۔ اسی کانفرنس میں ’’ترقی اور صنفی جہتیں‘‘ کے موضوع پر ایک خاتون کا لیکچر تھا۔ کانفرنس کے دوران میں اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا سوات میں ہونے والے سفاکانہ اور ظالمانہ واقعے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں اس کے بارے میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ایسا سوات میں ہوگیا ہوگا۔ البتہ میرے گاؤں میں کوڑے مارنے کا واقعہ ہوا ہے لیکن اس کا طریقۂ کار ایسا تو بالکل نہ تھا جس سے مجھے اس ویڈیو پر شک ہو رہا ہو۔ اس خاتون نے طنزیہ انداز میں کہا: ’’آپ جس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں ایسی مجرمانہ ذہنیت رکھنا کوئی انہونی بات تو نہیں۔‘‘ مجھے اس کی بات بڑی عجیب لگی اور میں نے کہا: ’’محترمہ آپ کو شاید غلط فہمی ہوگئی ہے۔ لہٰذا بہتریہی ہے کہ اپنے سوچنے کا انداز بدلنے کے لئے تھوڑا اس مسئلے پر سنجیدہ اور تفصیلی مطالعہ کرلیں اور مقامی پڑھے لکھے لوگوں سے استفادہ کرلیں۔‘‘ اس حوالے سے میں نے کچھ مقامی اخباری کالم نگاروں کے نام بھی گنوائے لیکن اس محترمہ نے کہا کہ’’اگر آپ اس واقعہ کو جھوٹ کہتے ہیں، تو پھر تو آپ نائین الیون کو بھی نہیں مانتے ہوں گے۔ آپ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے وجود کے بھی انکاری ہوں گے۔ آپ توطالبان کے وجود کو بھی تسلیم نہیں کریں گے۔‘‘
قارئین کرام! مجھے نہیں پتہ تھا کہ ’’مجھے اس ویڈیو پر شک ہو رہا ہے‘‘ کے الفاظ مجھے ’’طالبان کمانڈر‘‘ ثابت کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ کانفرنس کے میزبان نے میرا تعارف کروایا اور وہ خاتون ٹھنڈا پڑگئیں، ورنہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ وہ مجھے گوانتاناموبے بھیج کر ہی سکون کا سانس لے گی۔اب چونکہ سپریم کورٹ نے اسے جعلی قرار دے دیا ہے، لہٰذا اس واقعے کو لے کر جس جس نے ہم سواتیوں کے دل دکھائے ہیں، وہ اپنی گریبان میں جھانک لیں اور ہوسکے، تو اپنے دل ہی میں معافی مانگ لیں۔ ہم بڑے دل والے لوگ ہیں۔ آپ کے اترے ہوئے چہرے اور ترچھی نگاہوں کا بھانپ کر آپ کو معاف کردیں گے۔ میرے دیس کا فیضؔ ـکہتا ہے کہ’’ تم میرا آشیانہ تباہ نہ کرسکو گے، بس میری آہ اور بد دعا لو گے۔ تم نے اگر میرے چنار جلا دئے، تو میں دیودارمیں گھونسلہ بنادوں گا۔‘‘
898 total views, no views today


