ادب کے حوالے سے سر زمینِ سوات بہت زرخیز ہے۔ پختونوں نے اگر اپنی مادری زبان پشتو میں نظم و نثر کے روشن مینار کھڑے کئے ہیں، تو اُردو ادب میں بھی اپنی دھاک بٹھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
یوں تو مشہور ہے کہ ’’پٹھانوں کی اُردو گلابی ہوتی ہے‘‘ لیکن اس قول کو آج پختون قلم کاروں نے اُردو کے شعر و نغمہ کے ساتھ ساتھ نثری فن پاروں کے گل پھول کھلاکے غلط ثابت کیا ہے۔ اردو ادب کی خوشبو سے آج تمام سوات مہک رہا ہے۔ ضلع سوات کے اہل قلم اُردو ادب کی کسی صنف میں اب پیچھے نہیں ہیں۔ یہاں اُردو زبان کے بے شمار تخلیق کار ہیں۔ کالم نگار، مزاح نگار اور ناول نگار کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی شاعری میں پختونوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ زبانوں میں تصادم کے لیے اور ادب کو محصور کرنے اور تنگ نظری کو فروغ دینے کے لیے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور یہ تاثر عام کیا جاتا ہے کہ اپنی مادری زبان میں شاعری کرنے کے علاوہ کسی اور زبان میں شاعری کرنے کا سوچنا بھی حرام اور گناہ کبیرہ ہے، مگر اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ چینی اور جاپانی بھی اردو میں شاعری کرنے لگے ہیں۔ اب احمد فراز کو کیا کہا جائے۔ احمد فوادؔ، محمد عادل تنہاؔ، اظہار اللہ اظہارؔ، مقبول عامر، گوہر رحمان نویدؔ جیسے سیکڑوں شاعروں کو کس نام سے پکارا جائے؟
ان گناہگاروں میں ایک نام فضل ربی راہیؔ کا بھی ہے۔ راہیؔ صاحب سوات ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے ساتھ ساتھ یونائٹیڈ عرب امارات اور لندن میں بھی اپنا ایک الگ مقام اور پہچان رکھتے ہیں۔ وہ اُردو لکھتے بھی ہیں اور اسے گلاب کی خوشبو کی طرح پھیلاتے بھی ہیں۔ آج سوات میں اُردو ادب کے چمن میں اُس کے ہاتھوں کے بے شمار پھول مہکتے نظر آرہے ہیں۔ وہ اُستادوں کے اُستاد ہیں لیکن اس نے غلام کبھی نہیں پالے۔ وہ پڑھاتے ہیں، سکھاتے ہیں اور پھر اپنے مریدوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ پشتو زبان کے ساتھ سوات میں اردو ادب کے سب سے بڑے ادارے ’’شعیب اینڈ سنز پبلشرز اینڈ بکسیلرز‘‘ کے مالک و مختار ہیں۔ وہ خوبصورت کتب ترتیب دینے اور چھاپنے پر قادر ہیں۔ ہم آج کے کالم میں اُس کے نئے سفر نامے ’’منزل بہ منزل‘‘ پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں گے۔ ’’منزل بہ منزل‘‘ راہیؔ صاحب کا ایک سفر نامہ ہے۔ یہ دلچسپ روئیداد ہے۔ اس خوبصورت کتاب کے ۱۴۲ صفحات ہیں۔ خوبصورت سرورق ہے۔ بی بی سی کے پرانے نیوز کاسٹر اور تبصرہ نگار محترم رضا علی عابدیؔ نے اس کتاب پر اپنے تاریخی تاثرات قلم بند کئے ہیں جبکہ لندن ہی کے فیضان عارف نے بھی اس حوالہ سے اپنے احساسات سپردِ قلم کئے ہیں۔ سرزمین سوات کے مشہور شاعر اور پروفیسر احمد فوادؔ نے اس کتاب کے حوالے سے بھی خامہ فرسائی کی ہے۔
راہیؔ صاحب کی اس کتاب کا انتساب نہایت موزوں اور قابل قدر ہے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب کو مصنف، دانشور، تاریخ دان اور اپنے پرانے عزیز دوست جناب شیر افضل خان بریکوٹی کے نام منسوب کیا ہے۔ شاید اس انتساب سے ان کی بریکوٹی صاحب کے ساتھ دیرینہ دوستی کا حق ادا ہوجائے لیکن اُس کے قلمی جہاد کا حق کبھی ادا نہ ہوگا۔
فضل ربی راہیؔ کے نام کے ساتھ کئی کتابوں کے عکس اُبھرتے ہیں۔ ’’منزل بہ منزل‘‘ راہیؔ صاحب کی پہلی کتاب ہے نہ ہی ان کی آخری کوشش۔ ان کی قلمی کاوشیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ تخلیقی عمل اُن کا اُوڑھنا بچھونا ہے۔ یہ ایک ایسا نشہ ہے جو راہیؔ صاحب کی رگوں میں سرایت کرچکا ہے۔ راہیؔ صاحب کو اپنی آبائی سرزمین اور خوبصورت مٹی سوات سے بے حد پیار ہے۔ اس لیے جب وہ سوات کی خوبصورت وادیوں کو قلم بند کرتے ہیں، تو ’’سوات سیاحوں کی جنت‘‘ لکھ دیتے ہیں اور جب اس کی تاریخ محفوظ کرنے کا سوچتے ہیں، تو ’’ریاست سوات تاریخ کے آئینے میں‘‘ لکھ دیتے ہیں۔ اُنھیں سوات سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے۔ اس لیے وہ ایک تیسری کتاب ’’ریاست سوات کا ایک ورق‘‘ لکھ کر اپنی لازوال محبت کا ثبوت دیتے ہیں اور پھر جب اُس کے خوبصورت سوات کو بارود کا ڈھیر بنایا جاتا ہے، جب ہر سو آگ کے شعلے پھیلائے جاتے ہیں اور چاروں جانب دنیا سوات کے انگاروں سے انجان بنی ہوتی ہے، سکول ، مدرسے، پھول، چمن، گھر سب کچھ جل رہا ہوتا ہے، تو بقول شاعر
بستی کے سارے لوگ آتش پرست تھے
گھر میرا جل رہا تھا سمندر قریب تھا
مگر راہیؔ صاحب نے اُس وقت ہمت کرکے ’’اور سوات جلتا رہا‘‘ لکھ دیا۔ یہ اُس وقت کی بات ہے کہ جب پہاڑ جیسا بوجھ اُٹھانا آسان تھا لیکن قلم اُٹھانا مشکل تھا۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حقائق کو باقی ماندہ دنیا کے سامنے لانا تھا اور یہ فرض راہیؔ صاحب نے بطریق احسن ادا کیا۔’’اور سوات جلتا رہا‘‘ مجھے سعودی عرب میں ملی اور پڑھنے کے بعد فون پر راہیؔ صاحب سے پہلا سوال میرا یہ تھا کہ آپ نے لندن سے سوات واپس نہیں آنا ہے؟ ’’اور سوات جلتا رہا‘‘ کیا تھی، ایک غم، درد، دکھ، آنسو اور سسکی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کتاب حقیقت اور صداقت کی ایک لازوال داستان بھی تھی جس نے ہر سواتی کے ضمیر کو جھنجھوڑکے دیا تھا۔ ’’منزل بہ منزل‘‘ تو سفرنامہ ہے۔ روئیداد ہے۔ خوشی کا ترانہ ہے۔ شکر ہے کہ انگاروں کے بعد پھولوں کا احساس ہوا ہے۔ زندہ دلی کے جذبے اور ولولے اُمڈ آئے ہیں۔ دبئی، اٹلی، فرانس، لندن اور بلجیم میں جہاں جہاں انسانی سہولیات کا ذکر ہوچکا ہے، وہاں راہیؔ صاحب اپنے وطن کی کمیوں اور خامیوں کو نہیں بھولے ہیں۔ اس کتاب میں انھوں نے اپنے وطن اور دیارِ غیر کا بار بار موازنہ کیا ہے اور دکھ سے نہایت افسوس کا اظہار کیا ہے کہ آخر ہمارے ملک میں ایسے انتظامات، صفائی، انسانی قدر، قانونی بالادستی، مساوی سلوک اور وقت کی پابندی، وعدوں کی پابندی۔ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور تعاون کیوں نہیں؟ آخر ہم میں یہ کمزوریاں کیوں ہیں؟ ہم کیوں باقی دنیا کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتے؟ یہی تو راہیؔ صاحب کا کمال ہے کہ وہ کسی حال میں اپنی مٹی کو نہیں بھولے ہیں۔ وہ دبئی اور یورپ کی رنگینیوں میں اپنی زمین کی خامیوں کو نہیں بھولے ہیں۔ وہ ہر جگہ اپنی بد انتظامی کا رونا روتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے لکھنے کے فن سے قاری کو بور ہونے نہیں دیتا اور خاصے دلچسپ پیرائے اور انداز میں اپنی سفری روئیداد لکھتے ہیں۔ بعض اوقات قاری خود اپنے آپ کو اس سفرنامے کا ایک کردار سمجھتے لگتا ہے۔
میں اس خوبصورت کتاب پر فضل ربی راہیؔ صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں اور آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ پہلی فرصت میں ’’منزل بہ منزل‘‘ کو اپنی لائبریری کا حصہ بنائیں۔ آپ اس کتاب کو شعیب اینڈ سنز پبلشرز جی ٹی روڈ مینگورہ سوات سے ہر وقت لے سکتے ہیں۔
999 total views, no views today


