چارسدہ: باچا خان یونی ورسٹی میں دہشت گردوں کے حملے میں ایک پروفیسر سمیت 17 شہید جب کہ 20 سے زائد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، جامعہ کے اندر سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ چارسدہ یونیورسٹی میں قوم پرست رہنما باچا خان کی برسی کے موقع پر مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں شرکت کے لئے طلبہ، اساتذہ اور عملے کی بڑی تعداد موجود تھی کہ اچانک فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا اور دھماکوں کی آوازیں سنیں گئیں۔ سیکیورٹی فورسز نے چارسدہ یونیورسٹی کا محاصرہ کر لیا ہے جب کہ جامعہ کے اندر فائرنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں یونی ورسٹی کے پروفیسر حامد حسین سمیت 17 افراد شہید شہید جب کہ 20 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ شہید ہونے والے افراد کی لاشیں ڈی ایچ کیو اسپتال چارسدہ منتقل کر دی گئی ہیں۔ یونی ورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد بوائز ہاسٹل کے کمروں میں چھپے ہوئے ہیں جب کہ متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق چارسدہ یونی ورسٹی میں حملے کے بعد پاک فوج کے دستے پہنچ گئے ہیں جب کہ یونی ورسٹی سے طلبہ کو بحفاظت باہر نکالنے کا کام جاری ہے۔ یونی ورسٹی سے موصول اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے واقعہ کے بعد بھگڈر مچ گئی اور طلبہ اپنی کلاسوں میں جب کہ طالبات ہوسٹل میں محصور ہو کر رہ گئی ہیں۔ چارسدہ یونی ورسٹی کے ایک ملازم کا کہنا ہے کہ دہشت گرد یونی ورسٹی کے پچھلے حصے سے اندر داخل ہوئے۔ دوسری جانب میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ حملے میں 20 افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے، دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں، اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لئے دہشت گرد اس قسم کے بزدلانہ حملے کرتے ہیں۔ پاک فوج کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کمانڈو آپریشن جاری ہے اور حملہ آوروں کو 2 بلاکس میں محصور کردیا گیا ہے، آپریشن کی فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ چارسدہ یونی ورسٹی میں حملے کے بعد شہر کے دیگر تعلیمی ادارے بھی بند کر دیئے گئے ہیں جب کہ مردان کی عبدالولی خان یونی ورسٹی کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں 4 دہشت گردوں ہلاک کیا جا چکا ہے، ہلاک ہونے والے دہشت گرد ہاسٹل کے اندر سے فائرنگ کر رہے تھے۔ باچا خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈآکٹر فضل الرحیم نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 ہزار کے قریب طالب علم اور600 مہمان یونیورسٹی میں موجود ہیں جب کہ فائرنگ باہرسے کی جارہی ہے۔ اس وقت شدید ہے جس کی وجہ سے طلبہ کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا، ہو سکتا ہے کہ مسلح افراد دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہوئے ہوں۔ دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز چارسدہ سعید وزیر نے کہا کہ دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 3 اہلکار زخمی ہوئے ہیں، یونیورسٹی کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ہے جس کے بعد اب پولیس اہلکار اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، شدید دھند کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پشاور کے کارخانو بازار میں خاصہ دار فورس کی چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں متعدد اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق اور 39 زخمی ہو گئے تھے۔
574 total views, no views today


