صوبائی قبائلی علاقہ ملاکنڈ ڈویژن جسے بالفاظِ دیگر پاٹا کی حیثیت حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ اس ڈویژن میں کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگایا جاسکتا، مگر گذشتہ کئی ماہ سے مرکزی حکومت نے اس ڈویژن(پاٹا) میں مختلف ناموں سے ٹیکس لگانے کی کوششیں شروع کی ہیں اور اس مقصد کیلئے دفتر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، جس کے بعد نہ صرف یہاں کے تاجروں اورسیاسی حلقوں بلکہ عوامی حلقوں میں بھی کافی تشویش اوربے چینی پھیلی ہوئی ہے اوران کی جانب سے اس سلسلے میں شدید ردعمل بھی سامنے آناشروع ہوگیا ہے۔ عوام کہتے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن ایک صوبائی قبائلی علاقہ ہے جس میں قانون کی رو سے کسی قسم کا ٹیکس نافذنہیں کیاجاسکتا، مگر اس کے باوجود بھی مرکزی حکومت اس علاقے کے تشخص کو پامال کرنے اور یہاں پر ٹیکس لگانے کی درپے ہے جو نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ ایک قابل تشویش امر بھی ہے۔ دوسری جانب ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلہ کے خلاف تاجروں نے احتجاجی تحریک چلانے اور مظاہروں کا سلسلہ شروع کرنے بھی کی دھمکی دی ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں اورتاجروں کے ملے جلے ردعمل سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی صورت یہاں پر ٹیکس لاگو نہیں ہونے دیں گے ۔
درحقیقت ملاکنڈڈویژن کے تمام اضلاع سمیت سوات ایسے علاقے ہیں جوماضی میں مختلف قسم کے کٹھن اور سخت حالات سے گزرچکے ہیں۔ دہشت گردی، سیلاب، زلزلے، ڈینگی کی وبا اور دیگر مصائب کی وجہ سے اس ڈویژن کے عوام کو نہ صرف قدم قدم پر نت نئے مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے بلکہ یہاں پر بے روزگاری، مہنگائی، بجلی، گیس لوڈشیڈنگ، صاف پانی، صحت و تعلیمی سہولیات اوردیگر سنگین مسائل بھی درپیش ہیں جس سے یہاں کے لوگوں کی زندگی بڑی مشکل سے گزر رہی ہے۔ یہاں کے تعلیم یافتہ اور نوجوان اور ہنر مند افراد صبح سے لے کر شام تک ملازمتوں اور روزگار کی تلاش میں سرگرداں نظر آ رہے ہیں مگر انہیں ہر جگہ مایوسی کا منہ دیکھنا پڑرہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر تعلیم یافتہ نوجوانوں نے یا تو قلیل تنخواہوں پر پرائیویٹ سکولوں میں ٹیچنگ شروع کی ہے اور یامحنت مزدوری کی غرض سے بیرون ممالک چلے گئے ہیں۔
ملاکنڈ ڈویژن میں وسائل اور صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں مگر حکومتوں کی جانب سے مسلسل نظر اندازی کے سبب اگر ایک طرف یہاں کے وسائل سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہاہے، تودوسری جانب یہاں کے لوگوں میں موجود صلاحیتیں بھی بری طرح ضائع ہو رہی ہیں۔ ہر دور میں مرکزی اور صوبائی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن کو ترقیاتی اور تعمیراتی کاموں میں کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہاہے۔ اورتو اور اب اقتصادی راہداری میں بھی اس ڈویژن کیساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جو عوامی تشویش میں اضافے کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ الیکشن کے زمانے میں ہر پارٹی اہلیان ملاکنڈڈویژن کیساتھ مختلف وعدے کرکے اور انہیں سبزباغ دکھا کر ووٹ بٹور لیتی ہے مگر اقتدار ملنے کے بعد تمام تر وعدوں کو بھول کر ذاتی مفادات کے حصول کیلئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیتی ہے اور یوں کچھ ہی عرصہ بعد یہاں کے عوام کی نئی حکومت سے وابستہ تمام تر امیدیں ایک ایک دم توڑ جاتی ہیں اور یہ سلسلہ شروع ہی سے چلا آ رہا ہے۔
یوں تو ملاکنڈڈویژن کے عوام سے عام طورپر ادویات اور موبائل کارڈ سمیت دیگر چیزوں کی خریداری میں مختلف ناموں سے بھاری بھاری ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں مگر اب حکومت ان کے کاندھوں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر رہی سہی کسر پوری کرنا چاہتی ہے جو یہاں کے مصیبت زدہ عوام کے ساتھ ظلم وزیادتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے بہترمفادمیں ٹیکسوں کے نفاذکا فیصلہ واپس لے اور یہاں کے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے یہاں پر انڈسٹریاں لگانے سمیت سوات سلک انڈسٹری کو بحال کرے اور ساتھ ساتھ تمام سرکاری محکموں میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔ اس کے علاوہ ملاکنڈڈویژن میں جاری بجلی بحران و لوڈشیڈنگ اور سوئی گیس پریشر کی کمی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے سمیت گیس سے محروم علاقوں کو سوئی گیس کی فراہمی یقینی بنائے۔ پسماندہ علاقو ں کی پسماندگی اوربدحال سڑکوں کی بدحالی دورکرے۔ یوٹیلیٹی سٹوروں کو فعال بنائے۔ یہاں کے لوگوں کومفت صحت وتعلیمی اورزندگی کی دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرے، تو اس سے نہ صرف یہاں کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اورتشویش کا خاتمہ ہوگااوران کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی بلکہ ان کا موجود ہ حکومت پرسے اٹھتاہوا اعتما دبھی بحال ہوجائے گا۔
1,200 total views, no views today


