مینگورہ ، دی اویکننگ نامہ تنظیم کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر عرفان حسین بابک نے کہاہے کہ 30 جنوری 2016 ؛سول سوسائٹی کی جانب سے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے ترجیحی تجارتی معائدے جی ایس پی کا خیر مقدم کرتے ہیں جس کی رو سے پاکستانی مصنوعات بغیر کسی ڈیوٹی یا کم شرح ڈیوٹی پریورپی ممالک کو ایکسپورٹ کی جاسکتی ہیں، معاہدے کا بنیادی مقاصد میں پاکستان میں پائیدار ترقی کا فروغ اور حکمرانی کے نظام میں بہتری لاناہے تاہم پاکستان کو 27 بین ا لاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہو گا جو بنیادی انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق، ماحولیاتی تبدیلی اور نظامِ حکمرانی سے متعلق ہیں،سوات پریس کلب میں دی اویکننگ کے پروگرام آفیسر شمشیر،لیگل ایڈوائزر سہیل سلطان ایڈووکیٹ اورحدیقہ بشیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عرفان حسین بابک نے کہاکہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان یہ معاہدہ 2014 جنوری میں طے پایا تھا جس کے ٹھیک دو سال بعد یعنی جنوری 2016 میں معاہدے کے مطابق27 بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کے ضمن میں یورپی یونین کی جانب سے حکومتِ پاکستان کے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ سوِل سوسائٹی ورکنگ گروپ کی جانب سے خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ رپورٹ یورپی یونین کو بھجوائی گئی ،انہوں نے کہاکہ سوات، چارسدہ، صوابی اور صوبے کے دیگرعلاقوں سمیت فاٹااور پاٹا میں باچاخان یو نیورسٹی چارسدہ اور آرمی پبلک سکول پشاورسمیت بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں کو شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخواہ میں 397 سرکاری سکول بند پڑے ہیں جبکہ دیگر 28472 سرکاری سکولوں میں سے اکثریت بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ خیبرپختونخواہ کے 2.5ملین بچوں کی تعلیم تک رسائی نہیں ہے،انہوں نے کہاکہ اعداد وشمار کے مطابق خیبرپختونخواہ میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں گذشتہ سال 15% اضافہ ریکارڈ کیاگیا صرف سوات اور ملحقہ علاقوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران 61 خواتین کو غیرت کے نام اور دیگر وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا، انہوں نے کہاکہ بچیوں کی کم عمری کی شادی کا رواج بہت زیادہ ہے پاٹا میں تقریباََ 65% بچیوں کی کم عمری یا جبری شادی کا رواج عام ہے،انہوں نے کہاکہ مُلک کے دوسرے حصوں کی بہ نسبت خیبرپختونخواہ اور فاٹا انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک جگہ ہے، کے پی میں گذشتہ 11 سالوں میں 41 جبکہ فاٹا کے 14 صحافیوں کوقتل کیا گیا علاوہ ازیں ہمارے صوبے میں 2013 ء میں کُل 91 میں سے سب سے زیادہ 40% پولیو کارکنان کو شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا،انہوں نے کہاکہ فا ٹا جو کہ ایف سی آر کے تحت چلایا جارہا ہے جس کے تحت وہاں کے عوام کو اُن کے آئینی حقوق سے محروم رکھا جارہاہے،عدالتوں اور انسانی حقوق کے اداروں تک رسائی نہ ہونے کے باعث فاٹا کے عوام کی انصاف تک رسائی تقریباََ نا ممکن ہے اور اسی طرح سے پاٹا میں بھی قانون سازی کے بعد قوانین پاٹا میں براہ راست لاگو نہیں ہوتے جس سے پاٹا کے عوام انصاف تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہوں نے کہاکہہمارا مطالبہ ہے کہ خیبرپختونخواہ میں انسانی حقوق سے متعلقہ اداروں خصوصاََ ڈاریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس اوربچوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے اداروں کو بااختیار بنایا جائے اور فاٹا اور پاٹا میں اس طرز کے ادارے قائم کئے جائیں،فاٹا ریفارمز کے عمل کو تیز کیا جائے اوراس کیلئے جمہوری طرزِ عمل اپنایا جائے اورپاٹا کو بھی بندوبستی علاقوں کا درجہ دیا جائے ۔
814 total views, no views today


