بریکوٹ سوات سے ریاض احمد
2016کے آغاذ نے صوبہ خیبر پختون خواہ کے عوام کو سانحہ چارسد ہ نے جو غم دیا اس پر جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔علم کے دشمنوں نے باچا خان یوینورسٹی پر جس بزدالنہ حملے میں معصوم بچوں کا قاتل عام کیا تاریخ کے سیاہ ترین الفاظ میں لکھا جائے گا۔اس حملے کے اثرات قدرتی طورپر پورے صوبے کی طرح ضلع سوات پر بھی مرتب ہوئے ۔اسی دن پورا سوات غم میں ڈوبا ہوا تھا اور ہر آنکھ آشکبار تھی ۔باچا خان یونیورسٹی کے حملے نے سوات میں انتظامیہ کو الراٹ کردیا ۔اب پورے سوات میں تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی سیکورٹی چیک کی جارہی ہے اور جس تعلیمی ادارے میں سیکورٹی انتظامات تسلی بحش نہیں ہوتی ان کے خلاف قانونی چارہ گوئی شروع ہو گئی ہے۔تعلیمی اداروں کو اے پی ایس کے حملے کے بعد حکومت نے سیکورٹی انتظامات بہتر بنانے کے لئے احکامات جاری کئے تھے جس پر کافی حد تک عمل بھی ہو چکا ہے ۔مگر اس سانحے کے بعد سوات انتظامیہ حرکت میں آگئی اور تعلیمی اداروں خفیہ کیمرے نصب کرنے پابند ہوں گے ۔انتظامیہ نے تو اداروں کو احکامات جاری کردئیے مگر سرکاری تعلیمی کے سربراہان نے ان کیمروں کی فراہمی کے لئے اپنے متعلقہ محکموں چھٹیاں ارسال کردی ہیں مگر ابھی تک اس پر عمل دراامد نہیں ہوا ہے ۔اس سانحے نے طلباء کے والدین کو انتہائی خوف میں مبتلا کررکھاہے اور ہر وقت یہی سوچ میں ہوتے ہیں کہ میرا بیٹا صحیح سلامت گھر آجائے گا یا کہ نہیں ۔اس خوف وہراس کو ختم کرنے کے لئے حکومت کو تعلیمی اداروں کو فل پروف سیکورٹی انتظامات کرنے ہوں گے ۔صوبے کے دیگر علاقوں کی طرح سوات میں بھی سیاسی و سماجی حلقوں نے سانحہ چارسدہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جس میں اے این پی صف اول کا کردار رہا ہے کیونکہ دہشت گردی میں اے این پی کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اورسانحے کے دن باچا خان یونیورسٹی میں باچا خان کی یاد میں مشاعرہ تھا۔
جے یو آئی صوبے کے دیگر علاقوں کی طرح سوات میں بھی تربیتی ورکرز کنونشن کے نام سے مختلف جگہوں میں تقاریب منعقد کررہے ہیں۔ا ن تربیتی کنونشن سے یہ مقصد لیا جارہا ہے کہ پارٹی کو مذید منظم کرے اور جے یو آئی کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔اس طرح ایک تقریب گذشتہ روز تحصیل بریکوٹ کے علاقہ کوٹہ میں منعقد ہوا جسمیں مرکزی رہنماء کفایت اللہ ،سابق ایم پی اے مولانانظام الدین،ضلعی جنرل سیکرٹری اسحاق زاہد،سابق ناظم شاہی نواب باچہ کے علاوہ دیگر نے تقریب سے خطاب کے دوران موجودہ صوبائی حکومت کو ٹارگٹ کیا اور سانحہ چارسدہ کے بارے میں کہاکہ صوبائی حکومت امن وامان قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ پرویز خٹک کہتے ہیں کہ کب تک لاش اٹھائیں گے مگر ہم ان سے یہی سوال پوچھتے ہیں کہ ہم کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں گے ۔اخلاقی طور پر وزیر اعلیٰ خٰیبر پختون خواہ کی حکومت مستعفی ہوجائے کیونکہ وہ حکومت چلانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔انہوں نے تعلیمی اداروں میں اساتذہ پر پینٹ شرٹ کے پہنے پر سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے صوبائی ممبران پینٹ شرٹ استعمال کریں بعد میں اساتذہ کو پینٹ شرٹ کے احکامات جاری کریں اسی طرح نصاب سے اسلامی مضامین ہٹایاجارہا ہے مگر جے یو آئی کسی بھی صورت میں ملک میں کفری نظام کو تیار نہیں اگر اس طرح یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم صوبائی حکومت کے اس اقدامات کے خلاف سخت احتجاج کریں گے ۔ایم ایم اے کے دور میں جو ترقیاتی کام ہوئے تھے میں موجودہ حکومت کے ایم پی ایز کو چیلنج دیتاہوں کہ وہ اپنے دکھائے کہ انہوں نے کونسا میگاپراجیکٹ شروع کیا ہے ۔
سوات میں اس وقت منشیات فروشی کا دھندہ روز بروز ترقی کررہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پردرجنوں کی تعدادمیں نوجوان نسل اس دلدل میں پھنس رہے ہیں اور اپنے گھرانوں کے چشم وچراغ جن سے اپنے والدین مستقبل کے خواب ہیں وہ زندہ لاشوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔گذشتہ روز ویلج کونسل غالیگے کے دفتر کے افتتاح کے موقع پر ضلعی کونسلر حیدر علی نے منشیات کے بارے میں بتایا کہ بریکوٹ جو کہ منشیات کا گڑھ تھا اور اس کے مضافاتی علاقوں میں بھی منشیات فروشی کا دھندہ شروع ہو گیا ہے جس سے اب یہاں کے جوان بھی محفوظ نہیں رہے انہوں نے انتظامیہ سے بھرپور مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ فوری طور پر اس ناسور کوختم کرے اسی طرح تحصیل بریکوٹ ناظم گوہر ایوب نے ایک انٹریو کے دوران اس بارے میں کہا کہ پولیس بلاتفریق ان منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرے ۔بتایا جاتا ہے کہ تحصیل بریکوٹ سے پورے سوات کو منشیات فراہم کی جاتی ہے ۔منشیات کے بارے میں گذشتہ ماہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ کے معاؤن خصوصی برائے ہاؤسنگ نے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا تھا جس میں ویلج کونسل نجیگرام کے ناظم فضیل ودود باچا نے منشیات فروشی پر سخت ایکشن لینے کا مطالبہ بھی کیاجس پر بعد میں کھلی کچہری کے دوران معاؤن خصوصی ڈاکٹر امجدعلی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ پولیس اور انتظامیہ کو بلاامتیاز کاروائی کرنے کی ہدایت کی ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ویلج کونسل ناظمین تحصیل بریکوٹ کا مشترکہ وفد نے ڈی پی او سیلم مروت کے ساتھ ملاقات کی اور تمام صورت حال سے اگاہ کردیامگر ابھی تک تحصیل بریکوٹ میں منشیات فروشی کا دھندہ عروج پر ہے جو کہ متعلقہ سرکاری اداروں کے لئے سوالیہ نشان ہے ۔تحصیل بریکوٹ میں منشیات فروشی کا مکمل خاتمہ ایس ایچ او کامران خان کے دور میں ہوا تھا جو کہ آج کل ڈی ایس پی اکوڑہ خٹک ہیں ۔علاقے کے عوام نے صوبائی حکومت اور پولیس کے آئی جی پی سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ڈی ایس پی کامران خا ن کا تبادلہ فوری طور پر تحصیل بریکوٹ کردیا جائے تاکہ ایک بار پھر تحصیل بریکوٹ منشیات سے پاک ہو کر مذید ہنستے بستے گھرانے تباہی سے بچ سکے ۔
تحصیل بریکوٹ گرڈ اسٹیشن کے سست روی کے خلاف قومی جرگہ تحصیل بریکوٹ نے ال پارٹی کانفرنس بلایا تھا جس میں تمام پارٹی کے قائدین نے بھرپور شرکت کی اور اس عہد کا اعادہ کیا کہ تحصیل بریکوٹ کے مسائل پر سیاست نہیں کریں گے بلکہ ا سمیں ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر اپنے علاقے کے مسائل حل کرنے ہوں گے ۔کانفرنس کے ختم ہونے کے فوراً بعد قومی جرگہ اور تمام پارٹیوں کے قائدین وفد کی صورت میں وزیراعظم کے مشیر امیر مقام سے ملاقات کی ۔ملاقات کے دوران امیر مقام نے وفد کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ بریکوٹ گرڈ اسٹیشن 2016میں ہی تعمیر ہو گا۔بریکوٹ گرڈ اسٹیشن کے تعمیر سے تحصیل بریکوٹ کے عوام بجلی کے مسائل سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کرلیں گے ۔کیونکہ بڑی آبادی ہونے کے ناطے مینگورہ گرڈ اسٹیشن پر جو کہ تین فیڈز ہیں اوور لوڈ ہوچکے ہیں ۔گرمیوں میں یہاں پر 20سے 30تک وولیٹج ہوتی ہے جس سے الیکٹرنکس کے سامان گھر وں بطور نمائش ہوتی ہے اس سے کوئی کام نہیں لیا جاسکتاہے ۔کم وولیٹج کے علاوہ یہاں پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نہ ختم ہو نے کا سلسلہ شروع ہو جاتاہے ۔کم وولیج کی وجہ سے علاقے کے ٹرانسفامر ز جلنا معمول بن جاتاہے ان ٹرانسفامروں کو زیادہ تر خود علاقے کے مکین چندہ جمع کرکے مرمت کرتے ہیں ۔گرڈ اسٹیشن کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے اور علاقے کے عوام امید رکھتے ہیں کہ امیر مقام اس گرڈ اسٹیشن کے تعمیر پر خصوصی دلچسپی لیں گے اور بروقت اس منصوبے کو مکمل کریں گے ۔
پاکستان تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن کے انعقاد کے سلسلے میں ممبرسازی کررہے ہیں ۔پورے سوات میں ممبرسازی زور وشور سے جاری ہے ۔ہر کارکن اسی کوشش میں لگاہے کہ ممبرسازی زیادہ سے زیادہ کی جائے تاکہ انٹرا پارٹی الیکشن میں اپنے پسندیدہ کابینہ تشکیل دے سکے ۔مگر سننے میں آیا ہے کہ ممبرسازی مہم میں دیگر پارٹیوں کے کارکن نہیں بلکہ پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز ہونے کے باجود ان کو بھی پی ٹی آئی کا ممبر بنا دیا ہے ۔پارٹی کی رکنیت اضافے میں کوئی شک نہیں لیکن یہ ممبر آیا حقیقت میں پی ٹی آئی کا ممبر ہو سکے گا۔اصل حقیقت 2018کے عام انتخابات میں ہوگا۔
1,002 total views, no views today


