تحریر: حدیقہ بشیر
تمھاری شادی ہے ؟ کیا واقعی ؟ ارے واہ ہم تو سب سہیلیاں تمھاری شادی میں سجھ دھج کے آئیں گیں اور خوب ناچ گانا اور مستی ہوگی ۔ یہی کچھ خیالات تھے میرے جب میں چھٹی جماعت میں تھی اور میری ایک سکول کی سہیلی کی شادی ہو رہی تھی۔ تب اُس کی عمر تقریباََ12 سال تھی۔ شادی کے بعد اُس نے سکول آنا چھوڑ دیا اور کافی مہینوں بعد جب ہم ملے تو وہ نہایت ہی کمزور اور بیمار دکھائی دے رہی تھی۔ پتہ چلا کہ وہ حاملہ تھی اور گھر کی ساری ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھی جس کی وجہ سے اُس کی جسمانی اور نفسیاتی صحت پر منفی اثرات نمایاں تھے۔مجھے بھی ایک ایسے دور سے گزرنا پڑا جب 13سال کی عمر میں میری شادی کی بات گھر میں شروع ہوئی۔ جہاں مجھے زندگی میں کچھ بڑا کرنے کے لئے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھنا تھا وہاں دوسری طرف مجھے معاشرے کی ایک ایسی تلخ روایت کا سامنا کرنا تھا جس سے مجھے اپنے بچپن، تعلیم اور حقوق سے محروم ہونا تھا۔ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو ہر مصیبت اور تکلیف کو قسمت کا لکھا مان کر سر تسلیم خم کر لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کرتے ہیں سو میں نے دوسرے قسم کے لوگوں کی طرح ہر برائی کے خلاف ڈٹ جانے اور آواز اُٹھانے کی ٹھان لی۔ اور کم عمری کی شادیوں کی لڑکیوں کی صحت ، تعلیم اور ذہن پر منفی اثرات کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
کم عمری کی شادیاں جہاں بچوں کا بچپن چھین لیتی ہیں وہیں دوسری طرف انکو جسمانی، نفسیاتی اور معاشی لحاظ سے بھی کمزور بنا دیتی ہیں ۔ ۔کم عمری کی شادیاں بچوں کو ان کے مختلف حقوق سے محروم کر دیتی ہیں۔ اسی لئے یہ ایک بہت بڑا جرم بھی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کم عمری کی شادیوں سے متعلق صوبائی حکومت موٗثر قانونی سازی کرے اور اس مطالبے کا مقصد یہی ہے کہ بچے اپنے والدین کی طرف سے بغیر کسی مشکل کے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکیں ۔ ہم قانون سازی کے زریعے بہتر طور پر کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں کیونکہ ان شادیوں کے باعث بچوں کی زندگی اور کیرئیر پر شدید منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر ہم نے اپنی تحریک میں دیگر سماجی تنظیموں اور دوسرے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کیا ہے۔
ہمارے دیہیو شہری علاقوں میں بہت سی لڑکیوں کی شادی جب کی جاتی ہے تو ان کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں لڑکیوں کو والدین کے سر کا بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ یہ بڑی ہو گئیں تو والدین کا گھر کے معاشی امور میں کوئی ہاتھ بٹا نہیں سکیں گی ۔ اس لئے اس بوجھ سے چھٹکارا پانے کے لئے والدین اپنی کم عمر بچیوں کو بڑے عمر کے مردوں کے ساتھ بھی بیہانے سے نہیں ہچکچاتے۔ ہم نے ایسی شادیاں بھی دیکھی ہیں جس میں لڑکی کی عمر 11 سال اور بعض میں 8 اور 9 سال بھی تھی۔ اس قسم کی روایات کے لئے قانون کافی قرار نہیں دیا جا سکتا تا ہم یہ ایک مثبت پیش رفت کی جانب پہلا قدم ہوگا۔اس جانب دوسرا قدم دیہی علاقوں میں تعلیم سے متعلق تیز تر اقدامات کرنا ہوں گے۔ صرف تعلیم ہی ضروری تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ والدین کے لئے ضروری قرار دے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرائیں۔ اس لئے ہم یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بل میں لڑکیوں کے لئے شادی کی عمر کم از کم اٹھارہ سال مقرر کرنے کی تجویز شامل کی جائے۔ اس قانون کو موئثر طور پر لاگو کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس قانون میں یہ بھی لکھا جائے کہ لڑکی کے نکاح کے وقت اس کے والدین کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ لڑکی کا شناختی کارڈ پیش کریں ۔ شناختی کارڈ کے مطابق نکاح نامے کی تحریر قاضی یا نکاح خواں کی ذمہ داری ہو۔ قاضی ہی نکاح پڑھانے کے علاوہ شادی کی رجسٹریشن کرانے کے اہل ہوں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں صرف والدین کو ہی نہیں بلکہ جو لوگ اس شادی کو سر انجام دینے میں شامل ہوں مثلاََ نکاح خواں ، رجسٹرار، گواہان مشران جو موجود ہوں کو شامل کیا جانا چاہئے اور کم از کم دو سال تک قید کی سزا ہو جبکہ جرمانہ پانچ لاکھ روپے کیا جائے۔
ایک غیر سرکاری تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع سوات میں 65 فیصد بچوں کی کم عمری میں شادی ہو جاتی ہے۔ لڑکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے حقوق سے کوئی واقفیت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ہم سب کو مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ لڑکیوں کو اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں خود مختاری حاصل ہو۔ شادی کے لئے بلوغت کے ساتھ دانائی بھی ضروری ہے تاکہ لڑکی کی زندگی کے مختلف معاملات کو اچھی طرح سمجھ سکے اس لئے ہم قانون سازوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لڑکی کے لئے شادی کی عمر اٹھارہ سال رکھی جائے کیونکہ اس عمر میں لڑکی اتنی دانا ہوتی ہے کہ اپنی زندگی کے اہم فیصلے سے متعلق قدم اٹھا سکے۔ اگر یہ شقیں قانون کا حصہ بن جائیں تو یہ حکومت کی خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔ کیونکہ اب تک حکومت خواتین کے حقوق کے حوالے سے کافی غیر فکر مند نظر آتی ہے۔
896 total views, no views today


