سوات ،پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن ملاکنڈ ڈویژن کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ ، ڈویژن بھر کے ہسپتالوں میں کام بند رہا ، عوام کو مشکلات کاسامنا، ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس میں پیرامیڈیکس اوردیگر ہیلتھ ملازمین کونظراندازکرنے اورحالیہ اپ گریڈیشن میں سینئر اورکوالیفائیڈ بی ایس سی ڈگری ہولڈرز کو ان کاجائزحق نہ دینے کے خلاف پورے ملاکنڈڈویژن میں پیرامیڈیکس کی ہڑتال تمام یونٹ میں رہی ۔ صرف ایمرجنسی کوریج ملتارہا۔ 2016 ء کے سیدوشریف ٹیچنگ ہسپتال میں مکمل ہڑتال رہا، ڈویژن کے دیگر ڈسٹرکٹ اورتحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں اوربنیادی صحت کے مراکز میں بھی پیرامیڈیکل سٹاف ہڑتال پررہی ، صبح دس بجے سنٹرل ہسپتال سیدوشریف میں ایک زبردست احتجاجی جلسہ منعقد ہوا، اوراس کے بعد ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جلسے سے صوبائی پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے قائدین چیئرمین سراج الدین برکی نائب صدر اسم گل مہمند ملاکنڈ ڈویژن کے صدر حاجی بشیر احمد سیدوشریف ٹیچنگ ہسپتال کے جنرل سیکرٹری میانگل علیم ضلع بونیر کے صدر مصباح اللہ اور دیگر ضلعی قائدین نے خطاب کیا۔
مقررین نے اس بات پرسخت غم وغصے اورافسوس کااظہارکیاکہ وفاقی حکومت ہیلتھ پروفیشنل اورہیلتھ رسک الاؤنس گریڈ نمبر1سے 19تک تمام ملازمین کو دے رہی ہے ۔ صوبے کے دیگر محکموں مثلاً سیکرٹریٹ الاؤنس تمام سیکرٹریٹ ملازمین کو دے رہی ہے اسی طرح جوڈیشری الاؤنس تمام جوڈیشری ملازمین کودی جاتی ہے۔ انصاف کی فراہمی اورتبدیلی کے دعویدارتحریک انصاف اوراسکے اتحادی جماعتوں کے اس دورحکومت میں انصاف اورمساوات کے یکساں فراہمی کاکھلے عام قتل کیاگیاہے ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس صرف ڈاکٹروں کودیکردیگرتمام ہیلتھ ایمپلائز کواس سے محروم رکھاگیاہے حالانکہ سب سے زیادہ سخت ڈیوٹی لیبارٹری ، وارڈ، اپریشن تھیٹر، ایکسرے اورایم آرآئی وغیرہ میں ہی سٹاف سرانجام دیتاہ۔ خطرناک جراثیموں سے پھیلنے والے مہلک بیماریوں اورخطرناک شعاعوں کے شکارزیادہ پیرامیڈیکس اوردیگر سٹاف ہوتاہے ۔ ان تمام زمینی حقائق کے باوجود انہیں اس الاؤنس سے محروم رکھنااورصرف ڈاکٹروں کو اس سے نوازنا انتہائی ناانصافی ہے۔ اسی طرح حالیہ اپ گریڈیشن میں سینئرسٹاف اوران سروس کوالیفائیڈ بی ایس سی ڈگری ہولڈرز کو ان کے جائز حق یعنی گریڈ نمبر16اور17سے محروم رکھاگیاہے۔ اورایک سال اور25تا30سال ملازمین کوایک ہی گریڈ نمبر12میں رکھاگیاہے اس بے انصافی کی مثال کسی اورمحکمے میں نہیں ملتی ۔ ان مطالبات کے حل کیلئے بات چیت اورپرامن حل کیلئے تمام راستے ڈھونڈے گئے ۔ لیکن کوئی نتیجہ برآمدنہیں ہوا۔ اورآخرکار انتہائی پرامن لوگ مجبوراً آج کے اس احتجاج پرمجبورہوگئے ہیں تاکہ موجودہ حکومت اورمنتخب ممبران اسمبلی تک اپنے ان جائز مطالبات کوپہنچایاجائے مقررین نے پرزورمطالبہ کیا کہ حکومت فوری طورپردرجہ بالا انتہائی جائز مطالبات کو تسلیم کریں تاکہ بغیرکسی ذہنی دباؤ اوراحسا محرومی کے اپنے ڈیوٹیاں جاری رکھ سکے
354 total views, no views today


