پاکستان میں وی آئی پی پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر کو روز بروز فروغ دے رہے ہیں۔وزیر اعظم سے لیکر ناظم اعلٰی تک تمام VIP شخصیات VIP پروٹوکول کو خوب انجائی کر رہے ہیں،لیکن VIP پروٹوکول کی وجہ سے بعض اوقات عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،گزشتہ دنوں کراچی میں ایک واقعہ اس وقت پیش آیا کہ بلاول بھٹوزرداری ایک تقریب میں شرکت کیلئے جارہا تھا تو ان کی آمد کے موقع پر شیر شاہ سوری روڈ کو ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا۔تو بلاول بھٹوزرداری کے پروٹوکول کی وجہ سے دس ماہ کی کمسن بچی بسمہ جان بحق ہوگئی تھی،تو اس واقعے پر عوام کے ساتھ ساتھ عوامی نما ئندوں کو بھی کافی دکھ کا سامنا کرنا پڑا۔بسمہ کے لوا حقین نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہو ئے و ی آئی پی پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وی آئی پی پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر کو ختم کیا جاہیں۔جس کے بعد کے پی کے وزیر اعلٰی پرویز خٹک نے بھی ایکشن لے لیا،انہوں نے وی آئی پی پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر کے مکمل خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے نو ٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وی آئی پیز کو صرف قانون کے مطابق پروٹوکول دیا جائے گا،اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اہم شخصیات کیلئے سڑکیں بند نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی غیر ضروری سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔یاد رہے اس سے قبل پا کستان تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان نے بھی جلسے کے دوران اعلان کیا تھا کہ کے پی کے میں وزیر اعظم کو بھی پروٹوکول نہیں دیں گے،تو امر اس با ت کی ہیں کہ آیا اس نعروں اوردعووں میں کتنا حقیقت ہے ،اس اعلامیے کے کچھ دنوں بعد پرویز خٹک نے خود اپنے ہی احکامات کی دھجیا ں اڑادئیے۔وزیر اعلی گیارہ گاڑیوں کے طویل قافلے میں چارسدہ گئے تو اس کیلئے سڑک کا ایک حصہ کو بھی بند رکھا گیا انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ حکمرانوں کی جانیں عوام کی جانوں سے زیادہ قیمتی ہیں۔جب صحافیوں نے ان سے وی آئی پی پروٹوکول کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اپنے ہی نو ٹیفکیشن کی خلاف ورزی کے معاملے پر صحافیوں کو بتایاکہ میرے ساتھ چار گاڑیاں ہوتی ہیں۔قافلے میں ایم پی ایز اور پارٹی کے لوگ بھی شامل ہوجاتے ہیں،میرے پاس کوئی ایکسٹرا گاڈی نہیں ہے،اس کو پروٹوکول نہیں کہا جا سکتا۔اس نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ میں کسی کو سڑک بند کرنے کا حکم نہیں دیا،جس کے حکم پر روڈ کو بند کیا گیا ہے تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔لیکن تا حال وہ ایکشن عوام کو نظر نہیں آیا۔پنجاب کے صورت حال کو اگر دیکھا جائیں تو ہر وقت راولپنڈی اسلام آباد VIP سائرن کے اوازوں گھونج اٹھتی ہیں۔کراچی واقعے کے بعد وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے اہلیہ تہمینہ نے بھی فلمی اکٹنگ کرتی ہوئی VIP پروٹوکول کے خلاف میدان میں اتر ائیں تھی،انہوں نے کہا تھا کہ VIP سیکورٹی اور VIP پروٹوکول پر پابندی لگائے جائے،کراچی میں کمسن بسمہ کی موت سب کیلئے سوالیہ نشان ہے،تہمینہ نے کہا کہ پنجاب میں بھی VIP سیکورٹی اور VIP پروٹوکول پر پابندی ہونی چاہیے۔تاہم سوال اس بات کی ہے کہ کب یہ پابندی لگ جائیگی،یہ باتیں صرف اخباری بیانات تک محدود نظر آرہے ہیں۔اب اگر پا کستان کے حالت پر روشنی ڈالیں تو ملک کا اندرونی حالت تسلی بخش نہیں ہے تو اس نظر سے وی آئی پی شخصیات کیلئے وی آئی پی پروٹوکول مجبوری نظر ارہا ہے لیکن دوسری طرف حکومتی اور سیکورٹی اداروں کے طرف توجہ مرکوز کریں تو اس کی مطابق ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوچکا ہے،اور مکمل امن ہے تو پھراس طرح کیااقدامات سے عوام کو اذیت دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔ہماری قوم مزید غلامی برداشت نہیں کرے گی۔ہے حق ہمارا آزادی ،لے کر رہیں گے آزادی۔
1,026 total views, no views today


