اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس جواد ایس خواجہ کی زیر صدارت تین بینچ نے مالاکنڈ کے 35 لاپتہ افراد کے حوالے سے 30 دن میں حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔جمعہ کو سماعت کے موقع پر ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا عبدالطیف یوسف زئی نے نائب صوبیدار امان اللہ یخلاف مالاکنڈ تھانے میں درج مقدمے کی نقل سپریم کورٹ میں پیش کی۔
عدالت نے لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ تیس روز میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔اعلیٰ عدلیہ کو اس حوالے سے گزشتہ روز فیصلہ سنانا تھا لیکن خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے باقاعدہ ایف آئی درج نہ کیے جانے کے انکشاف کے بعد فیصلے کو آض تک موخر کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ شہریوں کو غیرقانونی حراست میں رکھنے کی ایف آئی آر میں شکایت کنندہ وزیر دفاع خواجہ آصف ہیں اور انہوں نے مالاکنڈ انٹرنمنٹ سینٹر سے 35 انٹرنیز کو ہٹانے پر امان اللہ اور دیگر ذمے داران کو گرفتار کر لیا ہے۔عدالت نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چالان کی نقل سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ ایک رکنی کمیشن نے اپنا کام شروع کردیا ہے، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ کمیشن جلد از جلد سفارشات متعلقہ حکام کو دے اور پیش نہیں کئے گئے لاپتہ افراد کا معاملہ بھی حل کیا جائے۔
مقدمے کی مزید سماعت تین ہفتے بعد ہوگی۔
جسٹس ریٹائرڈ میاں محمد اجمل کو ایک رکنی بینچ سونپا گیا ہے جو انٹرن سینتر سے لاپتہ 35 افراد کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں، اس سے قبل جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد رضا خان نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کر دیا تھا۔
کمیشن پتہ لگائے گا کہ کہیں ان افراد کو کہیں رکھا تو نہیں گیا یا پھر غیر قانونی طور پر ہٹایا گیا، اگر ایسا ہے تو اس عمل کے ذمے داران کا پتہ لگایا جائے، اس سلسلے میں تحقیقات کے تناظر میں حکومت ذمے داران کے خلاف موثر کارروائی تجویز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
735 total views, no views today


