مینگورہ، دی اویکننگ کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر عرفان حسین بابک،لیگل ایڈوائزر سہیل سلطان ایڈووکیٹ ،پروگرام آفیسر شمشیرعلی اورگرلز یونائٹنڈفارہیومن رائٹس کی چیئرپرسن حدیقہ بشیرنے کہاہے کہ کم عمری اور جبری شادی کے خلاف موثر قانون سازی کی ضرورت ہے،اس حوالے سے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کم عمری اور جبری شادیاں پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ ہے،ہمارے دیہی و شہری علاقوں میں کم عمری اور جبری شادیوں کا رجحان زیادہ ہے جن بچوں کی کم عمری میں شادیاں ہو جاتی ہیں وہ مختلف قسم کی جسمانی، نفسیاتی، اور معاشی کوفت سے گزرتے ہیں،بچپن کی شادیاں سماجی اور معاشرتی مسئلہ ہے اور ان کا حل کیا جانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستانی ریاست نے اس حوالے سے عالمی وعدوں اور سمجھوتوں کی پابند ہے اور اس کی روک تھام کیلئے ہر ادارے کا اہم کردار بنتا ہے،انہوں نے کہاکہ ہم نے سال2015میں کم عمری اور جبری شادیوں کے رجحان کے حوالے سے ضلع سوات میں ایک سروے کیا جس سے یہ پتا چلا کہ سوات میں کم عمری اور جبری شادیوں کا رجحان تقریباََ 65 فیصد ہے اور اس کی بہت ساری وجوہات سامنے آئیں ان میں غربت، تعلیم کی کمی ، قوانین کا عملی نفاذ نہ ہونا، عدم آگاہی، عورتوں اور بچیوں کی فیصلہ سازی کے عمل میں عدم شرکت اور عورتوں کو کم تر سمجھنا جیسے دیگر وجوہات شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی جانب سے بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی مسترد کر دینا ایک افسوس ناک امر ہے، قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین کے بیانات کی روشنی میں بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو غیر اسلامی قرار دیا،اسلامی نظریاتی کونسل کے کام کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے جبکہ اس کے بر عکس کونسل صرف اور صرف خواتین اور بچیوں کے حقوق پر توجہ مرکوزکئے ہوئے ہیں جبکہ صو بائی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے سینکڑوں قانون سازیاں ہوئی ہیں جس کے قانونی مسودے نا تواسلامی نظریاتی کونسل کو رائے کے لئے بھجوائے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کی سفارشات پر عمل کیا جاتا ہے لیکن عورتوں اور بچوں کے حقوق سے متعلقہ قوانین پر حکومتوں کو فوراََ اسلامی نظریاتی کونسل یاد آجاتی ہے،انہوں نے کہاکہ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پچھلی دہائی میں کونسل کو سفارشات کیلئے بھجوائے گئے بل کی فہرست شائع کرے اور یہ بھی بتائے کہ کونسل کی کتنی سفارشات پر عمل درآمد کیا ہے ،انہوں نے کہاکہ یہ بھی ایک افسوس ناک امر ہے کہ کونسل کی جانب سے دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی میں سفارشات اور پیش رفت نا کے برابر ہے جبکہ آج تک کونسل نے حکومت کو دہشت گردی کی روک تھام کیلئے کوئی بھی ایک جوابی بیانیہ نہیں پیش کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بچپن کی شادی کے حوالے سے صوبہ سندھ اور پنجاب نے قانون سازی کی ہے جبکہ خیبر پختونخواہ میں بچپن کی شادی کے قانون کا مسودہ التوا کا شکار ہے اس مسودہ میں قانونی اعتبار سے بہت ساری کمیاں موجود ہیں جسے دور کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ اس بل میں جو سب سے بڑی خامی موجود ہے وہ یہ ہے کہ چائلڈ کی تعریف کے مطابق عمر کی حد 18سال مقرر کی گئی ہے جس کو کوئی 18 سال سے کم عمر شخص آسانی سے اپنے شناختی کارڈ میں اپنے آپ کو غیر تعلیم یافتہ ظاہر کرکے 18 سال درج کر سکتا ہے،سیکشن 4 کے مطابق سزا کی بالائی حد 3 سال مقرر کی گئی ہے اور اس جرم کو ناقابل ضمانت قرار دیا گیا ہے،جبکہ اس قسم کے cases کا اختیار فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کو دیا گیا ہے جبکہ بالائی عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق مثلاNLR-1999 کے صفحہ 1 کے مطابق ایسے تمام جرائم کو کو قابل ضمانت قرار دیا گیا ہے جس میں سزا کی حد 3 سال ہے جبکہ ایسے ہی مقدمات کا ٹرائل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ ہی کر سکتا ہے اس بنیاد پر جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے درمیان conflict of power کا مسلۂ پیدا ہو سکتا ہے،انہوں نے کہاکہ اس بل کے سیکشن 5 میں Abetment جو کہ PPC-109 کے تحت جرم بنتا ہے اس کو شامل کرنا چاہئے تھا کیونکہ اس میں صرف سہولت کاروں کو سزا دینے کے بارے کہا گیا ہے،سیکشن 8 میں حکم امتناعی کے نفاز کے حوالے سے کوئی طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا ہے، موجودہ قانونی مسودے میں مقدمے کی تکمیل کے لئے 3 ماہ وقت دیا گیا ہے جبکہ نیشنل جوڈیشل پالیسی اور شریعہ ریگولیشن 2010میں فوجداری مقدمات کی میعاد 6ماہ ہے،کم عمری اور جبری شادی پر کام کرنے والی لڑکیوں کی تنظیم گرلز یونا ئٹڈ فار ہیومن رایٹس کی چیئر پرسن حدیقہ بشیر نے کہا کہ انکی تنظیم اس مسئلے کے خاتمے کے لئے کام کر رہی ہے اور گھر گھر جا کر لوگوں میں کم عمری کی شادی کے خلاف شعور و آگاہی پھیلا رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ کم عمری اور جبری شادی کے نتیجے میں لڑکیوں کی صحت اور تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی میں سزا کے مرتکب افراد میں والدین، نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں سب کو شامل کرنا چاہئے اور یہ کہ حکومت بچوں کی پیدائش کے اندراج کے عمل کو موئثر بنانے کیلئے اقدامات کرے جبکہ نکاح نامے میں لڑکی یا لڑکے کی شادی کے وقت عمر 18سال ہے یا نہیں کا خانہ شامل کرے،دی اویکننگ کے پروگرام آفیسر شمشیر علی نے کہا کہ چونکہ سوات پاٹا کا حصہ ہے اسی لئے قوانین براہ راست یہاں لاگو نہیں ہوتے جس کیوجہ سے عام لوگوں کو انصاف تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس قانون میں بھی یہ شق ضرور ہونی چاہئے کہ یہ پورے صوبہ خیبر پختونخواہ بشمول پاٹا میں براہ راست لاگو ہو کیونکہ کم عمری اور جبری شادیوں کا رواج پاٹا ا ور فاٹا میں باقی علاقوں سے بہت ذیادہ ہے،انہوں نے اس حوالے سے تجاویز دیتے ہوئے کہاکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام اور مقدمات کی کاروائی کے لئے چائلڈ میرج ریسٹرین آفیسر کی تعیناتی ھونی چاہئے یا اس کے اختیارات Consumer Protection Judgeکو دینے چاہئے اس ایکٹ میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آیا کوئی مجسٹریٹ اس قسم کے واقعات کے روک تھام کے لئے ازخود نوٹس لے سکتا ہے یا نہیں، صوبے کے کسی ایک علاقے کا لڑکا اگر کسی دوسرے علاقے کے کسی لڑکی سے کم عمری یا جبری شادی کر لیتا ہے تو اس حوالے سے اس مسودے میں کچھ نہیں ہے،کم عمری کی شادی رپورٹ ہونے کے بعد نکاح تنسیخ قراردیاجائے گا یانہیں اگر ہاں تو اس کے نتیجے میں جو اولادہوتی ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی اس حوالے سے بھی یہ مسودہ خاموش ہے۔
1,792 total views, no views today


