بریکوٹ، جمعیت العلماء اسلام کے امیر بونیر مفتی فضل غفور نے کہا ہے کہ جے یو ائی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پورے عالمی سطح پر اسلامی نظام نفاذکرنا چاہتی ہے ۔دنیا میں پچپن اسلامی ممالک ہیں مگر بدقسمتی سے ان ممالک کے حکمران کفر کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔ملک کی آزادی میں ہمارے اکابرین نے بہت سی قربانیا ں دی ہیں اور قربانیاں اس لئے دی تھی کہ یہاں پر شریعت محمد ی کا نظام نفاذ ہو گا مگر آج تک ملک میں کفری نظام رائج ہے ۔پنجاب حکومت سرکاری تعلیمی اداروں میں تبلیغی جماعتوں پر پابندی عائد کرنا چاہتا ہے اور مدرسوں پر مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال کرکے اسلامی تعلیم ختم کرنا چاہتے ہیں مگر جے یو آئی کے ہوتے ہوئے کوئی مائی کا لعل یہ اقدام نہیں اٹھا سکتاہے ۔موجود ہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔وہ سینماؤں کے رونقوں کو بحال کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے باغیوں کو ماہ 30ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرتا ہے جوکہ صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم و بے انصافی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی ورکرز کنونشن کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس دوران دیگر مقررین جے یو آئی امیر سوات قاری محمود ،جنرل سیکرٹری محمد اسحاق زاہد،سابق ایم پی اے مولانا عرفان اللہ ،ملاکنڈ جنرل سیکرٹری مولانا جاوید اللہ ،ناظم ویلج کونسل اشفاق احمد نے بھی خطاب کیا ل۔اس موقع پر پارٹی کے دیگر عہدیداران نائب ناظم تحصیل بابوزئی فضل حمید ،سابق ناظم شاہی نواب باچاکے علاوہ پارٹی کارکن سینکڑوں کی تعداد میں موجودتھے ۔انہوں نے کہاکہ جے یو آئی پارٹی نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے اور اسی تحریک پر اگر ماضی میں جائیں تو ہمارے اکابرین نے ہر دور میں سامراج کا مقابلہ کیا ہے ۔اور انشاء اللہ ملک میں قرآن کی حکومت قائم کرکے دم لیں گے ۔ملک میں مختلف سیاسی جماعتیں مختلف نعروں پر اقتدار تک پہنچ چکے ہیں ان کی کیا کارکردگی ہے آج بھی ملک میں غر بت اور افلاس کا دور دورہ ہے ۔صوبہ بدامنی کا شکارہے ۔بے روزگاری اور دیگر معاشرتی برائیاں عام ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں حقتقی نظام قرآن کا ہے اور انشاء اللہ ہم ملک میں اسلامی نظام نافذ کریں گے ۔اس وقت کفر نے ایک بات پر اتفاق کیا ہے کہ دنیا سے اسلام کا نام و نشان مٹ جائے اور کفاروں کے اس ایجنڈے کی تکمیل میں ہمارے حکمرانان ساتھ دے رہے ہیں ۔لڑکیوں کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں کھڑی کر کے صوبائی حکومت دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے ؟ صوبے میں فن کاروں کو ماہانہ تنخواہ مقرر کرکے اور سنیماؤں کی رونقیں بحال کرنے سے کیا مطلب لیا جاسکتاہے جبکہ صوبے میں غربت کی انتہاء ہے ۔
720 total views, no views today


