میں نے فیملی کے ساتھ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کا ارادہ کیا 20 اپریل 2015 کو گھر سے نکلے،پشاور ائر پورٹ پہنچے ۔ بورڈنگ کارڈ حاصل کئے اور جہاز میں بیٹھتے ہی احسا س ہونے لگا کہ اس جہاز کے مسافروں میں خلاف توقع بچوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ جدہ ائر پورٹ پر جب ہم لاؤنج میں آئے تو معلوم ہوا کہ یہ وہ بچے ،بیوہ عورتیں اور باپ ہیں جن کے بھائی ، بہن، ماں ، باپ اور بیٹے آرمی پبلک سکول میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہوچکے ہیں۔
جدہ ائر پورٹ پر ان تمام متاثرین کا استقبال پاک فوج کے اعلیٰ افسران اور پاک سفارت خانہ کے عہدیداروں نے کیا ۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 20دن گزارنے کے بعد ہم واپس ہوئے۔ جدہ سے واپسی پر جہاز کے کپتان اور عملہ کے افراد ان متاثرہ افراد سے واقعہ کی روداد سنتے رہے جس کی وجہ سے جہاز میں موجود کوئی فرد بھی اپنے آنسووں پر قابو نہ رکھ سکا ۔ اسی طرح کا واقعہ پچھلے دنوں باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں بھی پیش آیا جس میں بیس افراد نے جام شہادت نوش کیا اور درجنوں زخمی ہوئے۔
ان دلخراش واقعات کے بعد ہر پاکستانی اور باہر کے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کی زبان پر مذمت ،افسوس اور تعزیت کے کلمات موجود اور آنکھیں اشک بار ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دو واقعات میں ملوث کسی مجرم کو ورثاء کے دلوں کو سکون پہنچانے اور مجرموں کو نشان عبرت بنانے کیلئے کسی شہر کے چو ک میں نہیں لٹکایا گیا۔ واقعے کی تناظر میں سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے تین دن سوگ کا اعلان کرتے ہوئے شہداء کے ورثاء کی اشک شوئی کے لئے مختلف پیکجز کا اعلان کیا۔
لیکن اس موقع پر بعض چینلز نے وہ ذمہ داریاں پوری نہیں کیں جو حالات کے متقاضی تھے۔ واقعے کی دوسری رات ’’ہم‘‘ ٹی وی چینل پر دُبئی میں منعقدہ Awards Show کے نام پر پاکستان کے ایکٹرز اور ایکٹریسس کا ایک عظیم الشان بے ہودہ شو پیش کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستان کے بیٹوں اور بیٹیوں نے شرکت کی ۔
لڑکوں کا لڑکیوں کو کندھوں پر اُٹھانا اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے میں بھارت کے غیر مسلم اداکاراؤں کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے۔
اسی طرح پاکستان کے تمام پرائیویٹ چینلز پر روزانہ فحش پروگرام اور ایڈورٹائزمنٹ پیش کئے جاتے ہیں جس میں زیادہ تر موضوعات ’’طلاق ‘‘ اور لڑکیوں کے گھروں سے بھاگنے کے واقعات پر مبنی ہوتے ہیں۔
حکمرانوں سے درخواست ہے کہ دنیا کے نقشے پر پاکستان واحد ملک ہے جو کلمہ طیبہ کے نام سے وجود میںآیا ہے جس کا حق صحیح معنوں میں پورا نہ کرنے کی پاداش میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہماری گرفت ضرور کرے گاکہ یہ کیسا اسلامی ملک ہے جس میں رہنے والے ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک نہیں ہوسکتے ۔
ایک گھر میں ماتم ہوتا ہے جب کہ دوسرے گھر میں ڈھول تاشوں کے محافل گرم کئے جاتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں اور اصلاحی تنظیموں سے بھی التجا ہے جو ماضی میں فحاشی اور عریانی کے خلاف تحاریک چلاتے رہے ہیں۔ وہ حکومت وقت کو اپنی یہ روش بدلنے پر مجبور کردیں۔خدارا اُٹھیں ‘بے حس لوگوں کے ہاتھ روکیں اس کیلئے منصوبہ بندی کی جائے ۔
ایسے اقدامات روکنے کی ضرورت ہے جن کے ذریعے اس ملک خدادادکوتباہ اور ہمارے بچوں کو اخلاق باختہ بنانے کی سازشیں کی جارہی ہیں ۔ ورنہ پھر ہم سب کو رب ذوالجلال کے سامنے روز آخرت شرمندہ ہونے کے لئے ابھی سے تیار ہونا چاہئے۔
804 total views, no views today


