غافل یہاں کی لذت و آرام پر نہ ہو
دنیا میں ہائے ہائے بہت ہے مزے کے بعد
اک اضطراب دل کو مرا کر گیا خراب
کیا پوچھتے ہو حال زمین زلزلے کے بعد
ایک ماہر علم لکھتے ! چونکہ بعض لوگ عدل کے معنی سے واقف نہیں اس لئے وہ مساوات کا نام مفہوم لے کر غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں حالانکہ عدل کی معنی ہر طرح سے مساوات لینا مشکل، محال اور بعد از عقل و فراست ہے بلکہ عدل کی معنی جو چیز کسی محل کے قابل ہو اس کو اپنے محل میں استعمال کرنا ہے ، مرد کو مرد کے حقوق اور عورت کو عورت کا حق دینا عدل ہے ،ان دونوں میں ہر طرح سے برابری کا نام عدل نہیں ہوسکتا ، (سیرت النبی ؐ جلد ششم)
بر صغیر کے نامور فاضل علامہ سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہیں کہ کسی بوجھ کو دو برابر حصوں میں اس طرح بانٹ دیا جائے کہ ان دو میں سے کسی میں ذرا بھی کمی بیشی نہ ہو تو اس کو عربی میں عدل کہتے ہیں اور اس سے وہ معنی پیدا ہوتے ہیں جس سے ہم اس لفظ کو اپنی زبان میں بولتے ہیں ، یعنی جو بات ہم کہیں یا جو کام کریں اس میں سچائی کا میزان کسی طرف جھکنے نہ پائے اور وہی بات کہی اور وہی کام کیا جائے جو سچائی کی کسوٹی پر پوراُ ترے (سیرت النبیؐ جلد ششم )باب عدل و انصاف میں )۔
آج کل ملک میں انفراتفری اور انتشار و ظلم وستم جاری ہے اور ان میں اکثر ظلم کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر اور اسمبلی میں بیٹھے ہیں اپنی بچاؤ اور مظلوموں کو جال میں پھنسا نے کی کوششوں میں ہیں ۔
15 جنوری 2016 بروز جمعتہ المبارک سندھ اسمبلی میں یہ بل پاس ہوا کہ صوبائی حکومت کو اختیار ہوگا کہ کرپشن کے ملزم کو چھوڑدے اور اس پر جاری مقدمات ختم کئے جائیں۔
دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں یہ کہا گیا کہ ممبروں کی تنخواہوں اور مراعات 200 فیصد بڑھادی جائے ، ان ظالموں کے بارے میں انصاف کی توقع صرف ججوں سے ہے ۔
جو ہماری پاکستانی تاریخ ہے وہ ظالمانہ فیصلوں اور لوٹ مار کرنے والوں کو پروٹوکول کے ساتھ باعزت بری کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔
اس بارے میں اگر واقعی ہم مسلمان ہیں تو قرآن کی طرف ذہن لے جانا ہوگا ۔
اسلام میں عدل کی اہمیت
اسلام میں عدل و انصاف پر بہت زور دیا گیا ہے کیونکہ اگر عدل و انصاف نہ ہو تو انسانی معاشرہ درھم برھم ہوجاتا ہے اور اس کا امن وسکون ختم ہوجاتا ہے ، امن وسکون کا ختم ہونا لازمی طور پر تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کیلئے امن شرط اولین ہے اور امن کا حاصل ہونا انصاف کے بغیر ناممکن ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے بندوں کو عدل و انصاف کی خاص طور پر تاکید کی ہے۔
(۱)سورۃ مائدہ ۸: انصاف کرو کہ انصاف کرنا پرہیز گاری (تقویٰ)سے بہت قریب ہے
(۲)سورۃ نحل آیت ۹۰:بے شک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم فرماتا ہے
(۳)سورۃ النساء آیت ۵۸:اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کروتو انصاف کے ساتھ کرو ۔
(۴)سورۃ الانعام آیت ۱۵۶:اور جب بات کہو تو انصاف سے کہو اگر چہ قرایت دار (کے خلاف )ہی کیوں نہ ہو ۔ اپنے خلاف بھی اگر موقع آیا تو ایس اکرنا ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے بار میں سورۃ النساء آیت ۱۳۵ میں فرماتے ہیں ۔
(۵)ترجمہ : اے ایمان والوں انصاف کے علمبردار اور اللہ تعالیٰ کیلئے گواہی دینے والے رہوں خواہ تمہیں گواہی خود اپنے خلاف اور اپنے والدین اور اعزاء کے خلاف دینی پڑے )سورۃ النساء آیت ۴۰۰ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے !
اے ایمان والوں انصاف کی حمایت میں کھڑے ر ہو ، اللہ کے لئے گواہ بنو اگر چہ تمہارا اپنا اس میں نقصان ہی ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا اگر وہ دولت مند ہے یا محتاج ہیں تو اللہ تعالیٰ تم سے زیادہ ان کا خیر خوا ہے تم انصاف کرنے میں اپنے نفس کی خواہش کی پیروی نہ کرو، اگر تم زبان ملوگے (اگر تم نے ہیر پھیر کیا ،اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچا یا ۔) یا کچھ بچا جاؤگے تو اللہ تمہارے کام سے واقف ہے (القرآن مجید )۔
درجہ بالا تمام آیات قرآنی اور دیگر دلائل صرف انصاف کے نفاذ کو پورا کرنے کیلئے ہیں اب اس کے برعکس اگر ظلم کروگے تو کیا ہوگا قرآن کی زبانی سنئے گا۔
(۱) سورۃ ہود ، ترجمہ : بلاشبہ اس کی پکڑ بڑی دردناک اور سخت ہے ۔
(۲)سورۃ انعام ۵:پس ظالم قوم کی نسل بھی منقطع کردی گئی۔
(۳)سورۃ انفال ۷ ترجمہ : اور ہم نے فرعون کی قوم کو غرق کردیا اور سب کے سب ظالم تھے ، الفرقان رکوع ۲۔
ارشاد باری تعالٰ ہے : اور جوتم میں ظالم ہوگا ہم اس کو بڑاعذاب چھکائیں گے ۔
سورۃ الدھر ۲ میں رشاد ہے ترجمہ : اور ظالموں کیلئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے ۔
ایک حدیث قدسی ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ اے میرے بندو !
میں نے اپنے لئے اور تمہارے لئے آپس میں ظلم کو حرام کیا ہے تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ، (صحیح مسلم شریف اور ترمذی ؒ )
قرآن پاک میں ارشاد ہے ترجمہ!
اور اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو پیار نہیں کرتا بلکہ ان پر لعنت بھیجتا ہے ( سورۃ اعراب ۵)
اللہ تعالیٰ کا آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یعنی مظلوم کی بد دعا سے اپنے آپ کو بچاؤ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالی کسی حقدار کو اس کے حق سے محروم نہیں کرتا۔
بخاری شریف میں ہے حضور ؐ فرماتے ہیں ، کہ مظلوموں کی آہ سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا جلد قبول فرماتا ہے (ترمذی ۔
نوٹ اوپر والا حدیث بخاری کا ہے اور نیچے ترمذی کا ۔ وضاحت ضروری ہے )
اب ہم تمہیں بتانا چاہیں گے کہ اسلامی قاضی کیا تھے ؟ اور موجود جج کیا ہیں ؟ سب سے پہلے اسلامی قاضی خود جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود تھے اور جب تک دنیا میں رہے فیصلے کرتے رہے کبھی موقع ملا تو نشاء اللہ ایک ایک فیصلے کی تعارف کراؤنگا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا !
اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ان کا احکام کے بموجب فیصلہ کرو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل کئے ہیں۔
(جاری ہے)
1,128 total views, no views today


