سوات کی تمام تحصیلوں میں’’تحصیل کبل‘‘ کی اپنی ایک جداگانہ حیثیت ہے ۔سوات کے صدرمقام سیدوشریف اور مینگورہ شہر سے جنوب کی طرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ تحصیل لوکل گورنمنٹ ایکٹ دو ہزار تیرہ کے تحت تیرہ مختلف وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں کالاکلے ،کبل ، دیولئی ،کانجو ،کوزہ بانڈئ ، برہ بانڈئ ،ہزارہ ،بر اباخیل ،کوز اباخیل ،شاہ ڈھیرئ ،دردیال ، قلاگأ اور توتانو بانڈئ شامل ہیں ۔
ان تمام علاقوں سے گزشتہ سال دوہزار پندرہ کے بلدیاتی انتخابات میں ایک کثیر تعداد میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے بلدیاتی نمائندے منتخب ہو کر اپنے عہدوں کا حلف بھی اٹھاچکے ہیں ۔
تحصیل کبل کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ سوات کے حلقہ این اے انتیس سے پاکستان تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی مراد سعید کا تعلق بھی اسی تحصیل کبل سے ہے جبکہ حلقہ پی کے تریاسی سے کامیاب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی اور مشیر وزیر اعلیٰ محب اللہ خان کا حلقہ نیابت بھی تحصیل کبل میں واقع ہے ۔
اس تحصیل سے پہلے باچا لالا ،ایم ایم اے دور حکومت میں حسین احمد کانجو، عوامی نیشنل پارٹی کی دور حکومت میں مرحوم شمشیر علی خان اور بعد میں ان کا بھائی رحمت علی خان بھی یہا ں سے منتخب ہوکر اپنے حساب سے یہاں کے عوام کی خدمت کرچکے ہیں البتہ عوام سب کی کارکردگی سے بہ خوبی واقف ہیں کہ کون کتنے پانی میں ہے۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحصیل کبل سے کافی تعداد میں بلدیاتی نمائندے یعنی تیرہ ضلعی کونسلر ،تیرہ تحصیل کونسلر زاور مختلف قسم کے دوسرے بلدیاتی نمائندے منتخب ہوچکے ہیں جن کو صوبائی حکومت کی طرف سے اختیارات منتقل ہوچکے ہیں۔
بجٹ میں ان سب کو فنڈز بھی مل چکے ہیں تحصیل کبل میں جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں‘ مسلم لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی کی مشترکہ طور پر حکومت ہے جس میں تحصیل ناظم کا عہدہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے حاجی رحمت علی اور نائب ناظم کا عہدہ پاکستان مسلم لیگ کے انجینئر حنیف خان کے پاس ہے ۔
تحصیل کونسلروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کونسلر ز منتخب ہوئے ہیں ۔بلدیاتی انتخابات سے پہلے امیدواروں نے یہاں کے عوام کیساتھ بہت سارے وعدے کئے ہیں لیکن بدقسمتی سے وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان بلدیاتی نمائندوں نے اپنا رویہ تبدیل کرنا شروع کر تے ہوئے اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی برتنا شروع کردیا ہے ۔
ابھی تک تحصیل کبل کے لوگوں کیلئے کسی میگا پراجیکٹ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔ تحصیل کبل کے بہت سارے ترقیاتی منصوبے کئی سالوں سے زیر التواء ہیں ۔تحصیل کبل چونکہ سوات کا اہم اور بڑا تحصیل ہے لیکن یہاں کے مکینوں کو کافی ساری مسائل ومشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
چونکہ تحصیل کبل کے مکینوں کو سب سے بڑامسئلہ طبی سہولیات کا ہے ،یہاں ایک سول ہسپتال اور کچھ صحت کے بنیادی مراکز ہیں جو یہاں کے لوگوں کے علاج معالجے کی سہولیات پوری کرنے کے لئے ناکافی ہیں ۔
بدیں وجہ تحصیل کبل کے لوگ ایمرجنسی کی صورت میں سیدوشریف ہسپتال کا رخ کرتے ہیں ۔دوسرا بڑا مسئلہ تحصیل کبل کے عوام کو سوئی گیس کی عدم فراہمی کا ہے ۔کئی برس پہلے امیر مقام نے سوئی گیس منصوبے کا افتتاح کیا تھا جس کی تختی آج بھی کانجوچوک میں لگی ہوئی ہے،لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود امیر مقام سے تحصیل کبل کے عوام سے کیا گیا وعدہ ایفاء نہ ہوسکا ۔
اب عوام انجینئر حنیف خان سے سوئی گیس فراہمی کی امید رکھے ہوئے ہیں ۔تحصیل کبل کے عوام کو تیسرا بڑا مسئلہ ایوب پل کے قریب پولیس لائن کے قریب منگورہ بائی پاس چوک پر ٹریفک جام کا ہے جہاں ہروقت ٹریفک جام رہنے کی وجہ سے آنے جانے والوں کوشدید مشکلات درپیش ہوتے ہیں۔
منٹوں کا فاصلہ گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی کئی طرح کے مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی گئی ہے ۔تحصیل کبل کے علاقے ٹاؤن شپ میں متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا تعمیراتی کام تاحال مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔
جس کی وجہ سے اس میں پڑھنے والی طالبات گوناگوں مسائل کے ساتھ کرائے کی بلڈنگ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔
صورت حال پرتحصیل کبل کے عوام اپنے منتخب نمائندوں سے توقعات رکھے ہوئے ہیں کہ یہ لوگ تحصیل کبل کے عوامی مسائل حل کرنے میں دلچسپی لے کر اپنا حق اداکریں۔
ان نمائندوں میں ممبر قومی اسمبلی مراد سعید ، ممبر صوبائی اسمبلی محب اللہ خان ،تحصیل ناظم حاجی رحمت علی ،نائب ناظم انجینئر حنیف خان او ر دیگر شامل ہیں ۔
سوات میں تحصیل کبل کے عوام نے ہر وقت میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، ان کے مسائل حل کرنا ان عوامی نمائندوں کافرض اولین ہے اگرچہ یہ ان کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ صورت حال پر ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ منتخب نمائندے اپنے ان وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں جو انہوں نے انتخاب سے پہلے عوام سے کررکھے ہیں۔
890 total views, no views today


