کوزہ بانڈی ، کئی سال گزر گئے، ہزاروں متاثرین سوات اب اپنے تباہ شدہ گھروں ،دکانوں ،حجروں اور دیگر املاک کے معاوضوں سے اب بھی محروم ہے ، اور اب بھی سوات آپریشن کے متاثرین اپنے معاوضوں کے اصولی کیلئے پارسا اور سمیڈا افس کے دروازوں پر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے ،پارسا اور سمیڈا پراجیکٹ سے سینکڑوں متاثرین کو معاوضے بند ہو چکے ہیں ، لوگوں کے مکانات ،کاروباری سنٹر دکانیں تباہ ہوئے تھے لیکن تاحال صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ماتحت کام کرنے والے اداروں پارسا اور سمیڈا نے تباہ حال لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے معاوضوں کے عدم ادائیگی اور متاثرین کو نت نئے باتوں سے ٹرخاتے ہوئے ان کے زخموں پر نمک پاشی کی جارہی ہے ،متاثرین کا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، ڈی سی سوات ، ڈی جی پارسا اور ضلعی ناظم محمد علی شاہ سے فورا معاوضے دینے کا مطالبہ کردیاہے ۔رپورٹ کے مطابق سوات کے تحصیل کبل میں اپریشن راہ راست کے بعد حکومت نے متاثرین کیلئے معاوضوں کا اعلان کردیا تھا جس کیلئے باقاعدہ طور پر سروے کیا گیا ہے سروے میں کئی متاثرین کو معاوضے مل چکے ہیں لیکن تاحال کئی سال گزرنے کے باوجود ہزاروں متاثرین اب بھی اپنے معاوضوں سے محروم ہے اور یہ بے چاری متاثرین اپنے معاوضوں کے وصولی کیلئے گزشتہ کئی سالوں سے صوبائی حکومت کے ماتحت چلنے والے اداروں پارسا اور سمیڈا کے دفاتروں کے دروازوں پر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ سوات میں آپریشن راہ راست کے دوران ان کے گھر، حجرے ،مکانات ،دکانیں، ہوٹلز اور کاروباری مراکز وغیرہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے تھے اور سال نومبر 2009میں ان کا سروے شروع ہو چکا تھا ۔متاثرین کا کہنا ہے کہ معاوضوں کے لئے ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن ابھی تک حکومت اور متعلقہ حکام کے جانب سے کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوا ۔اس حوالے سے متاثرین سوات آپریشن ایکشن کمیٹی کے صدر محمد آیاز خان اف کوزہ بانڈی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ سوات میں اپریشن راہ راست میں سواتی عوام اور خصوصا تحصیل کبل میں بڑی پیمانے پر نقصان ہوا تھا اور اس کے ازالے کیلئے ریکارڈ اکٹھے کرنے کیلئے ۲۰۰۹ میں با قاعدہ طور پر سروے شروع کیا گیا ، اس کے بعد ہمارے سینکڑوں متاثرین کو معاوضے ملے ہیں لیکن اب بھی ہزاروں متاثرین اپنے معاوضوں سے محروم ہے انہوں نے کہا کہ ایک سال سے پارسا اور سمیڈا سے متاثرین کو معاوضے نہیں ملے ہے ۔انہوں نے کہا کہ کبھی ہم ڈی سی افس تو کبھی پارسا اور سمیڈا افس پشاور سے رابطے کرتے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک معاوضے دینے کیلئے کسی قسم کی پیش رفت نہیں کی ، اور بعض متاثرین کویہاں تک کہا ں جاتاہے کہ اپ کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود نہیں ہے انہوں نے اپنے گفتگو میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، ڈی جی پارسا اور ڈی سی سوات محمود اسلم سے مطالبہ کیا کہ جن لوگوں کے نام پر ٹوکن جاری کئے گئے ہیں ان کو جلد ازجلد معاوضہ دیا جائے ۔یادرہے کہ اس وقت متاثرین سوات اپریشن میں ایسے لوگ بھی ہے کہ جن کے گھر ابھی تک تباہ شدہ حالت میں ہیں اور یہ لوگ ان کی مرمت کی استطاعت نہیں رکھتے اور ان میں اس وقت سخت تشویش اور بے چینی پائے جارہے ہیں ۔ سوات کے لوگوں نے اپنے پیارے وطن پاکستان کے حفاظت کے خاطر بہت زیادہ قربانی دی ہے لیکن ااج حکمران ان سوات کے مظلوم لوگوں کے حق کو نہ دیکر ظلم کی انتہا کررہی ہیں ۔رپورٹ/وقار احمد سواتی سوات نیوز ڈاٹ کام
674 total views, no views today


