اب ہم ابتدائی سیڑھیوں پر چڑھ رہے تھے، ہم جس قدر قریب ہوتے جا رہے تھے، اتنا ہی قدیم ٹیمپل کا جادوئی اثر ہم پر گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ برونٹی نے کہا کہ یہ نہ صرف بدھ مت کی عظیم یادگار ہے، بلکہ پوری دنیا میں سب سے بڑا ٹیمپل بھی ہے جس کی بنیا د ’’سیلیاندرا‘‘سلطنت کے بادشاہ نے رکھی تھی۔ اس کی تعمیر سات سو پچاس اور آٹھ سو بیالیس صدی عیسوی کے درمیان ہوئی تھی۔ سخت گرمی میں ہزاروں مزدور اور کاریگروں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا، جو اس کے ارد گرد کی پہاڑیوں سے دیوقامت سیاہ رنگ کے چٹانوں کو کاٹتے اور یہاں لاتے تھے۔ یہ ٹیمپل آتش فشانی زون کے عین وسط میں بنایا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کی تعمیر میں ساٹھ ہزار کیوبک میٹر پتھر استعمال ہوا ہے۔ اس کی تعمیر میں خاص قسم کا فلسفہ اور خیال شامل ہے۔ یہ ٹیمپل کئی جرس نما چھوٹے بڑے اسٹوپوں، پہاڑی ٹیمپل اور وسطی اسٹوپا کا حسین امتزاج ہے، جس کی بناوٹ دس لہروں یا سطحوں میں کی گئی ہے، جو اس کائنات کے مختلف ادوار کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس کی دس لہریں روحانی ترقی کے دس بابوں کی بھی وضاحت کرتی ہیں۔ چاروں اطراف میں سیڑھیاں اس کے سب سے اونچے اور وسطی اسٹوپا تک راہ نمائی کرتی ہیں، جب کہ اس کی ہر لہر مختلف ٹیرسز پر مشتمل ہے۔ ہر ٹیرس کی دیواروں پر بدھ مت کے عقائد کے مجمسوں کی کندہ کاری کی گئی ہے۔ لوگ جب اس کی گپتا طرز کی تعمیراتی شان اور نفاست کو دیکھتے ہیں، تو دنگ رہ جاتے ہیں۔
ہم چلتے چلتے مشرقی سیڑھیوں پر چڑھنے لگے۔ یہ واقعی عام انسانوں کا کام نہیں لگتا تھا۔ میں نے برونٹی کی طرف دیکھا، تو اس کا پرسکون چہرہ انتہائی دل کش لگ رہا تھا۔ آج سورج اپنے جوبن پر تھا، جس کی کرنیں سیدھی برونٹی کو چو رہی تھیں،شائد دھوپ کی وجہ تھی کہ اس کے گلابی گال، دو لال ٹماٹروں میں تبدیل ہو رہے تھے۔
’’چودھویں صدی عیسوی کی شروعات تھی کہ یہاں کی سیاسی فضا میں طوفان امڈنے لگے، جس نے یہاں کی سیاسی زندگی کے ساتھ ساتھ ، مذہبی اور ثقافتی امور کو بھی بری طرح نشانہ بنایا اور ’’بوروبودور‘‘ کے علاوہ یہاں کے تقریباً تمام مذہبی عمارتیں ویران پڑگئیں۔ نتیجتاً یہ عظیم عمارت بھی آہستہ آہستہ سنسان ہو کر مکمل طور پر لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔‘‘ اس نے مجھے تخیلاتی دنیا سے واپس لانے کے لیے کہا۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے برونٹی نے مزید کہا کہ آتش فشانوں کے بے رحم لاوے نے اس ٹیمپل کو دفنا دیا تھا، جس پر آہستہ آہستہ جنگلی پودے اور درخت نکلنے لگے۔ اس کے بعد آنے والی نسلوں نے اسے پہاڑ ہی سمجھا۔ لیکن ’’بوروبودور‘‘ یہاں کے مقامی لوگوں کی داستانوں میں ہمیشہ زندہ رہا۔ کیوں کہ بڑے بوڑھے ہمیشہ ایک عظیم الشان مذہبی عمارت کے قصے سنایا کرتے تھے ۔
ہم ناک کی سیدھ میں آہستہ آہستہ چل کر اوپر چڑھتے گئے۔ جب ہم بالائی سطح پر پہنچے، تو یہ منظر واقعی جادوئی تھا۔ وسطی اسٹوپا کے اردگرد گول دائروں میں جرس نما اسٹوپوں اور بدھا کے مجسموں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور ربط تھا، جیسے یہ انسانوں کو سکھا رہے تھے کہ زندگی آپس میں مل جل کر پیار و محبت سے گزارنے کا نام ہے۔
’’ذرا چاروں اُور دیکھو!‘‘ برونٹی نے مجھے ماحول کے سحر کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔ یہ بالکل عجیب منظر تھا، اتنہائی سبز منظر دیکھنے والوں کی آنکھوں کو طراوت بخش رہا تھا۔ یہ ماحول رومانی تھا کہ روحانی، اس وقت یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا اور میں عالمِ مدہوشی میں اس جادونگری میں کھویا ہوا تھا۔ ’’بوروبودور‘‘ کا سکون، اردگر کے دلکش نظارے اور برونٹی کی طلسماتی شخصیت نے سماں باندھ رکھا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ برونٹی کا ہاتھ تھام کر اس کو چاروں اطراف کے نظارے دکھا دوں۔ میں چاہتا تھا کہ ’’دیسی‘‘ کو یہیں فارغ کر دوں اور کچھ لمحے برونٹی کے ساتھ تنہا میں گزار لوں۔ پر یہ ممکن نہ تھا۔ برونٹی اندھی تھی۔ مجھے جیسے ہی اس کے اندھے پن کا احساس ہوتا، تو دفعتاً یہ سوچ بھی ذہن میں انگڑائی لیتی کہ پروردگار، تیرا کوئی راز ہی ہوگا اس میں۔
برونٹی کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد دوبارہ یوں گویا ہوئی: ’’فضل! جو شخص ’’بوروبودور‘‘ کے اسٹوپوں کو مَس کرکے کوئی خواہش کرتا ہے، تو وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔‘‘ ایک لمحہ کے لیے میں نے سوچا کہ میں کسی اسٹوپا کو مس کرکے خواہش کروں کہ برونٹی کی بینائی واپس آجائے، پر یہ تو ایک واہمہ تھا۔ اور یوں میری یہ خواہش، خواہش ہی رہ گئی۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے برونٹی نے کہا کہ کئی صدیوں تک انسانی آنکھ سے پوشیدہ رہنے کے بعد انیسویں صدی میں جب انڈونیشیا انگریزوں کی کالونی بنا، تو جاوا کے انگریز حکم ران ’’سر تھامس سٹمفورڈ‘‘ جو کہ آرکیالوجی میں دل چسپی لیتا تھا کو ’’بوروبودور‘‘ کے بارے میں یہاں کے مقامی باشندوں نے بتایا،جس نے 1814ء کو ڈچ ماہرین کی مدد سے اسے دریافت کیا۔ افسوس کہ اس وقت تک مقامی باشندے اور اسمگلر یہاں سے غیر قانونی طور پر ہزاروں قیمتی مجسمے اور ’’آرٹی فیکٹ‘‘ چوری کر چکے تھے۔ یوں ’’بوروبودور‘‘ کی حفاظت اور بہ حالی کا کام شرو ع ہوا۔ 1975ء اور 1982ء میں اس کی مکمل طور پر دوبارہ تعمیر اور بہ حالی کا کام ہوا اور تب سے یہ یونیسکو کی دنیا کے ورثے کی لسٹ میں بھی شامل ہوگیا ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ ’’بوروبودور‘‘ کی تعمیر نو اور بہ حالی میں پاکستان نے بھی انڈونیشین حکومت کی مدد کی ہے، مگر افسوس کے اس کے اپنے ملک میں انتہائی قیمتی ثقافتی اور تاریخی ورثہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، مگر حکومت کو اس حوالے سے کوئی فکر لاحق نہیں۔
نویں صدی کے اس عظیم الشان عجوبے کو دیکھنے کے لیے لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ روزانہ کے حساب سے چار تا سات ہزار سیاح یہاں داخل ہوتے ہیں، جو یہاں کی معیشت میں ہزاروں ڈالر کا زرِمبادلہ ڈال کر چلے جاتے ہیں۔ یہاں کی تقریباً تمام آبادی کا روزگار سیاحت سے وابستہ ہے۔ افسوس کے ہمارے پاس ’’بوروبودور‘‘ سے زیادہ پرانی و تاریخی ورثہ موجود ہے، مگر حکومت اور آرکیالوجی کے ہی لوگ اسمگلروں سے مل کر ان کو لوٹ رہے ہیں، جب کہ کئی لوگ غلط فہمی کا شکار ہو کر اس ثقافتی ورثہ کو اپنے ہاتھوں سے مٹا رہے ہیں اور اپنے اس عمل کو اپنے لیے نجات کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔
جنت نظیر وادئ سوات کے ملکوتی حسن کا ہر کوئی معترف ہے، یہاں کے تاریخی و تہذیبی ورثہ کو دنیا مانتی ہے۔ دنیا میں بہت کم جگہیں ایسی ہیں، جہاں قدرتی حسن کے ساتھ تاریخی و تہذیبی ورثہ بھی پایا جاتا ہو۔ وادئ سوات ان چند مقامات میں سے ایک ہے، مگر افسوس یہاں کے اپنے ہی لوگ تاریخی آثار کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پتہ نہیں ہم تہذیب کے دائرے میں کب داخل ہوں گے ۔ ہوسکتا ہے جب ہم تہذیبی دنیا کا حصہ بن جائیں، تب بہت دیر ہوچکی ہو اور پچھتاوے کے سوا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہو۔کیوں کہ یہاں کا تاریخی دریا (دریائے سوات) کو ہم تیزی سے گندگی کا ڈھیر بنا رہے ہیں، جو چند سالوں بعد دنیا کا گندا ترین دریا ہوگا۔ ہم اپنے ہاتھوں سے یہاں کے بیش قیمت جنگلوں کا صفایا کر رہے ہیں جس میں حکومتی اداروں کی مجرمانہ غفلت شامل ہے۔ ایک وقت آئے گا جب ہم ان تمام چیزوں سے محروم ہوجائیں گے۔
(جاری ہے)
1,788 total views, no views today


