ایشیاء کا سوئٹزرلینڈ کہلانے والی وادئ سوات کو نجانے کس کی نظر لگی ہے ،دو ہزار چھ کے بعد حالات کشیدہ ہو ئے تو لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، فوجی اپریشن نے سونے پر سہاگہ کا کام دکھایا جس کے نتیجے میں سوات کے لوگوں کو تاریخ کی سب سے بڑی اندورنی نقل مکانی بھی کرنا پڑی۔
لاکھوں مرد وزن نے اپنے گھر بار چھوڑ کر ملک کے مختلف علاقوں میں اذیت کے وہ دن گزارے جن کے بارے میں سوچ کر آج بھی روح لرز جاتی ہے ۔
اس اپریشن کے نتیجے میں سوات کے لوگوں کے بے تحاشاجانی و مالی نقصانات ہوئے ۔اپریشن مکمل ہوا، علاقہ کلیئر ہونے کے بعد جب لوگ گھروں کو لوٹے تو ان کا سب کچھ لٹ چکا تھا اور کوئی پرسان حال نہیں تھاجبکہ دوسری جانب لٹے پٹے لوگ بحالی کے لئے بھی پریشان تھے ۔
ا نفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے دنیا سمیت پورے پاکستان کی نظریں جنت نظیر وادی سوات کی جانب مرکوز ہوئیں، متاثر ہ افراد کی بحالی کیلئے بھاری تعداد میں مختلف قسم کے امداد ملنا شروع ہوئے ۔
کچھ اداروں نے تو اپنے آرگنائزیشنز کو بھیج کر یہاں پر مکمل طور پر امداد دینے کے نام پر رہائش اختیار کرلی اور بعض امداد دے کر واپس چلے گئے ۔ کثیر تعداد میں آج بھی سوات بھر میں نان گورنمنٹل آرگنائزیشن کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں ۔
سوات میں آپریشن کے بعد یہاں کی عوام کے گھر، دکانیں ، کاروباری مراکز ،حجرے اور دیگر املاک تباہ ہوچکے تھے ، ان املاک کی دوبارہ تعمیر کیلئے صوبائی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ادارے پارسا کو منتخب کرلیا گیا ۔
لیکن تاحال سوات اپریشن کو کئی سال گزر نے کے باؤجود ہزاروں متاثرین اب بھی اپنے تباہ شدہ املاک کے معاوضوں سے محروم ہیں۔
یہ لوگ معاوضوں کی حصول کیلئے پارسا اور سمیڈا دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں لیکن شنوائی نہیں ہورہی ہے جو ان ہزاروں قربانی دینے والوں کی زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
سوات بھر کی طرح تحصیل کبل میں اپریشن راہ راست کے بعد حکومت نے متاثرین کیلئے معاوضوں کا اعلان کردیا تھا جس کیلئے باقاعدہ طور پر سروے کیا گیا ہے سروے میں کئی متاثرین کو معاوضے مل چکے ہیں۔ سوات میں آپریشن راہ راست کے دوران ان کے گھر، حجرے ،مکانات ،دکانیں، ہوٹلز اور کاروباری مراکز وغیرہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے تھے ۔
متاثرین نے معاوضوں کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن ابھی تک حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی بھی پیش رفت نہیں ہوئی ۔ سوات میں اپریشن راہ راست میں سواتی عوام اور خصوصاً تحصیل کبل میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے جس کے ازالے کیلئے ریکارڈ اکٹھے کرنے کیلئے ۲۰۰۹ میں با قاعدہ طور پر سروے شروع کیا گیا۔
اس کے بعد سینکڑوں متاثرین کو معاوضے ملے ہیں لیکن اب بھی ہزاروں متاثرین اپنے معاوضوں سے محروم ہیں ۔ متاثرین کبھی ڈی سی افس تو کبھی پارسا اور سمیڈا افس پشاور سے رابطے کرتے ہیں لیکن انہیں ابھی تک معاوضے دینے کیلئے کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ بعض متاثرین کویہاں تک کہا جاتاہے کہ آپ کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود نہیں ۔
قارئین کرام ! حکومتی اداروں کو چاہئے کہ جن لوگوں کے نام سے ٹوکن جاری کئے گئے ہیں ان کو جلد ازجلد معاوضہ دیا جائے ۔یادرہے کہ اس وقت متاثرین سوات اپریشن میں ایسے لوگ بھی ہے جن کے گھر ابھی تک تباہ شدہ حالت میں ہیں اور یہ لوگ ان مکانات کو مرمت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے ان میں سخت تشویش اور بے چینی پائی جارہی ہے ۔
سوات کے لوگوں نے اپنے پیارے وطن پاکستان کی حفاظت کیلئے بے تحاشا قربانی دی ہے لیکن حکمران سوات کی مظلوموں کو ان کا حق نہ دے کر ظلم کی تاریخ رقم کررہے ہیں ۔
808 total views, no views today


