خوازہ خیل، خاندان والوں نے اپنے زمینوں پر بہت ستا یا اور12 سال تک در بدر ٹکر کھائیں ،خاندان والوں نے لا وارث سمجھ کر جائیداد سے محروم کردیا تھا ، لیکن مقامی انتظامیہ اور عدالتوں نے انصاف فراہم کرکے کروڑوں روپے کی جائیداد واپس دلوائی ، دعا ئیں دیتی ہوں، تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ قرآن و سنت نبوی کے احکامات کے مطابق خواتین کو جائیداد میں حصہ دیا کریں ، اب بھی میری کرڑوں روپے کی جائیداد پر رشتہ دار قابض ہیں ان کو اپیل کرتی ہوں کہ وہ میری جائیداد واپس مجھے حوالہ کریں بصورت دیگر ان کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کرونگی ، ان خیالات کے اظہار خوازہ خیلہ سے تعلق رکھنے والی سید اعلیٰ زوجہ عبد الرحمٰن نے خوازہ خیلہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں میرے والدین کے وفات کے بعد مجھے میرے خاندان کے رشتہ داروں جس میں عاقل خان اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے میرے جائیداد پر قبضہ کیا تھا ، جس کے خلاف میں نے عدالتوں سے رجوع کیا اور تقریباََ 12 سال تک میں نے در در کی ٹوکریں کھائی ، اور تقریباََتیس لاکھ روپے سے زیادہ رقم عدالتوں میں چکر کاٹنے پر خرچ کئے ، لیکن اللہ کے در میں دیر ہے مگر اندھیر نہیں ، آخر کار مجھے پاکستان کے عدالتوں سے انصاف مل گیا اور مجھے میرا جائیداد قابضین سے واپس مل گیا ، جس پر میں ایس ایچ او خوازہ خیلہ ، گرداوار، اسسٹنٹ کمشنر، پٹھواریوں ، عدلیہ کی نہایت مشکور ہیں اور انہیں تہہ دل سے دعائیں دیتی ہوں کہ اللہ انہیں قائم و دائم رکھیں ، اس کے علاوہ مخالفین کے ساتھ میرے حصہ کہ کچھ جائیداد اب بھی موجود ہے اپیل کرتی ہوں کہ میری جملہ جائیداد میری حوالہ کی جائے بصورت دیگر مزید قانونی چارہ جوئی کرونگی ، اور مزید یہ کہ مجھے عدلیہ نے جو جائیداد حوالہ کیا ہے اگر کسی نے مخالفین کے ساتھ میرے جائیداد پر لین دین کی ہو تو وہ ان کے ساتھ رابطہ رکھیں کیونکہ اس سے میرا کسی قسم کا تعلق نہیں ہے ، اور اگر خدانخواستہ مخالفین نے میرے خلاف کسی قسم کی اقدام کی تو وہ میرے ذمہ دار ہونگے ۔
616 total views, no views today


