اکیس فروری کو عالمی سطح پر مادری زبانوں کا دن منایا جاتا ہے۔ ہمارا تعلق اس زبان سے ہے جس کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے لیکن جب ہم اس کے ادبی اور علمی سرمائے پر نظر ڈالتے ہیں، تو دوسری زبانوں کے مقابلے یہ بالکل تہی دہست ہے۔ اس سے نو عمر زبانوں کا تقابلی جائزہ لیں، تو بے اختیار زبان پر آجاتا ہے کہ ’’ببین تفاوت رہ از ازکجا ست تابہ کجا‘‘ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اردو کی سات آٹھ سو سال کی زبان تو عالمی زبانوں کے ساتھ چشمک زنی کر رہی ہے۔ اس کے ادبی کہکشاں میں کیسے کیسے ستارے دمک رہے ہیں جن کی روشنی سے آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ ولی دکنی کی نیم پختہ ریختہ گوئی سے ابتدا کرنے والی شاعری نے کیسے کیسے باکمال اور قادر الکلام شاعروں کو جنم دیا غالبؔ اور داغؔ دہلوی سے علامہ اقبالؔ، جوشؔ اور فیضؔ سے ہوتے ہوئے احمد فرازؔ اور سید وصی شاہ تک موتیوں کی ایک لڑی ہے جو قیمت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ نثری ادب میں کرشن چندر، غلام عباس، منٹو، محمد خالداختر اور انتظار حسین جیسے اہل قلم ہیں جن کو آپ کسی بھی مغربی ادیب کے مقابلے میں پیش کرسکتے ہیں۔
فکاہیہ ادب میں مرزا فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، شوکت تھانوی، شفیق الرحمان، ابن انشاء، اور مشتاق احمد یوسفی اور صوفی ادب میں اشفاق احمد اور قدرت اللہ شہاب ایسی قد آور شخصیتیں ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ ناول نویسی میں قرۃ العین حیدر، حجاب امتیاز علی، صدیق سالک اور بانو قدسیہ قابل رشک ہستیاں ہیں۔ کیا ہم ناصر کاظمی اور محسن احسان کے مقابلے میں کسی ایک پشتو اہل قلم کو کھڑا کرسکتے ہیں؟ ان ناموں کا جن کا میں نے ذکر کیا ہے اور بھی بہت سے بلند مرتبہ ادیب ہیں جو بھارت میں رہ کر اردو زبان کی خدمت کررہے ہیں۔
اس کے برعکس اگر ہم پشتو کا دامن ٹٹولیں، تو بہت مایوس کن اور بہت “Bleak” سچویشن ہے، پشتو زبان نے کئی صدیوں بعد ایک خوشحال اور ایک رحمان بابا پیدا کیا۔ اور پھر آج کے دن تک ہم صرف ان ہی دو ناموں پر گزارا کررہے ہیں۔ بیچوں بیچ میں علی خان ہی قابل ذکر دکھائی دیتا ہے۔ کئی صدیاں گزرنے کے بعد غنی خان اور حمزہ بابا نمودار ہوئے مگر دونوں کی اپروچ مختلف ہے۔ اگر ہم سوات کی بات کریں، تو لگی لپٹی بغیر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حافظ الپوریٔ کے بعد صرف چند ہی نام نظر آتے ہیں جو فنی لحاظ سے قابل تقلید ہیں۔ ان میں حنیف قیسؔ اور پروفیسر عطاء الرحمن عطاءؔ ہی بلند مقام کے حامل ہیں۔
میری ذاتی رائے میں پشتو کی کم مائیگی کی وجہ مختلف حکومتوں کی سرد مہری ہے۔ کیا آپ اس حقیقت سے واقف نہیں کہ افغانستان کے شاہی خاندان والے جو خالص سدوزیٔ پختون تھے، اپنے محلات میں پشتو میں بات کرنا کسر شان سمجھتے تھے اور صرف فرانسیسی زبان بولتے تھے، اس کے علاوہ کبھی کبھی فارسی بھی بولا کرتے تھے۔
اردو اس لیے ترقی کی منزلیں طے کرتی رہی کہ اُس کو نہ صرف مغل دربار میں پذیرائی حاصل تھی بلکہ اودھ، دکن، رام پور اور لکھنو کے نوابوں اور والیوں کی سرپرستی میں لکھاریوں نے اس زبان کو عروج تک پہنچایا۔ آزادی کے بعد بڑے بڑے صنعت کاروں نے اپنے ناموں سے ادبی ایوارڈز کا اجراء کیا۔ پختونخواہ کے سرمایہ دار اپنی تجوریاں تو بھرتے رہے مگر اپنی زبان کے ترویج اور ترقی کے لیے ایک دمڑی بھی خرچ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اردو مشاعروں میں بڑے بڑے شاعر صرف اس لفافے کے لیے شرکت کرتے تھے جو ان کو مشاعرہ کے بعد ملتے تھے۔ بعض ادیبوں کو اکیڈیمی ادبیات کی طرف سے ماہوار وظیفہ بھی ملتا رہا اور بعض حکومت کے پے رول پر رہے۔ ہمارے ہاں ایک پشتو اکیڈیمی ہوا کرتی تھی جانے اب ہے کہ نہیں، کیا اُس نے کسی غریب شاعر کی سرپرستی کی ہے؟ کم از کم گمنام شاعروں کے کلام کو ضائع ہونے سے بچا کر ان کی اشاعت کا اہتمام ہے کرے، تو یہ بھی بڑا کام ہوگا۔ ایک اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے قومی مزاج میں کتابوں سے دل چسپی کا عنصر بالکل نہیں۔ ہم انگریزی زبان کی کتاب تو خریدیں گے، مگر پشتو کی کتاب مفت بھی ملے، تو اپنی الماری میں جگہ نہیں دیں گے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک یہودی مصنف ہیرلڈرابنس کی کتابیں، تو اربوں کی تعداد میں بکتی ہیں اور پشتو کی کتاب اشاعت کے ایک ماہ بعد یا تو کسی فٹ پاتھ پر کتب فروش کے ہاں ملتی ہے اور یا پکوڑوں والے کی دوکان پر ورق ورق پڑی ہوتی ہے۔
ایسے میں ہم اگر اپنے شاعروں اور ادیبوں سے گلہ کرتے ہیں کہ وہ معیاری ادب پیش نہیں کرسکتے، تو ہماری شکایت بے معنی ہوگی۔ ہمیں اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے سے بیشتر اپنے کردار پر غور کرنا چاہئے۔ ایک زمانہ تھا کہ سوات میں شاعروں کی حوصلہ افزائی ہوتی تھی، تو اس دور میں محمد جان لوہارؔ جیسے عوامی شاعر، تاج محمد خان زیب سر اور سیف الملوک صدیقی جیسے اہم نام سامنے آتے رہے۔ زیب سر ایک خان بھی تھے اور اہل قلم بھی۔ وہ کئی ضخیم کتابوں کے مصنف تھے۔ کیا آج آپ کو مارکیٹ میں ان کی کوئی کتاب نظر آرہی ہے؟ حالاں کہ اپنے ماضی سے رشتہ قائم رکھنے میں ان کی تصانیف اہم رول ادا کرسکتی ہیں۔
محمد جان لوہارؔ کی ایک بات یاد آرہی ہے، چلتے چلتے آپ سے شیئر کروں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس زمانے کے اساتذہ اپنے شاگردوں کا کیسے خیال رکھتے تھے۔ میں کسی کام کے سلسلے میں بذریعہ بس پشاور جا رہا تھا۔ بس میں تقریباً آدھے تو لوہار صاحب مع درجن بھر شاگردوں کے بیٹھے تھے۔ یہ لوگ کسی مشاعرے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ لوہارؔ صاحب ہر ایک شاگرد سے اس کا کلام غور سے سن رہے ہیں۔ اصلاح بھی کررہے ہیں اور ہر شعر کی ادائیگی اور لہجہ سمجھا رہے ہیں۔ ایک شاگرد نے کہا: ’’اُستاد جی! میں اپنا تخلص تبدیل کرنا چاہتا ہوں، میرے لیے کوئی مناسب تخلص تجویز کریں۔‘‘ انہوں نے جھٹ سے جواب دیا: ’’تمہارے لیے ’’فرمان‘‘ ٹھیک رہے گا مطیع اللہ فرمانؔ۔‘‘
اب نہ وہ استاد رہے اور نہ وہ شاگرد۔ کوئی دوچار لفظ صحیح بٹھا کر شعر لکھتا ہے، پیسے پاس ہوں، تو چھاپ دیتا ہے۔
اور بقول غالبؔ
خط لکھیں گے گر چہ مطلب کچھ نہیں
ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
932 total views, no views today


