مینگورہ، ضلع شانگلہ کے علاقہ پورن اواری سے تعلق رکھنے والے تاج زرین ولد کرم نے کہاہے کہ دس بارہ دن قبل کمیونٹی پولیس اہلکار مطلب خان اور اس کا ساتھی رحمت فروش نے رات کو میرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور بعدمیں فائرنگ کرکے گھر میں گھس گئے جہاں سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے نقداور ساڑھے چار تولے سونا لے گئے ،سوات پریس کلب میں سماجی کارکن رحمان اللہ اور نظر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جاتے وقت ایک ملزم گرگیا جس کے نتیجے میں دوموبائل،ایک پستول اور ایک ٹاچ اس سے گرگئے جسے ہم اٹھالئے،انہوں نے کہاکہ اس رات چار بجے ہم پولیس اسٹیشن گئے جہاں پر موجود حوالدار نجیب اور عمران نے رپورٹ نہیں لی بلکہ ہمیں ٹرخادیاتاہم صبح سماجی شخص رحمان اللہ کے ساتھ تھانے گیا ایس ایچ اوسے ملے مگر اس نے بھی رپورٹ در ج نہیں کرائی بلکہ جواب دیا جو لوگ تمہارے گھر آئے تھے توتم نے انہیں گولی کیوں نہیں ماری ،وہاں سے مایوس ہوکر ڈی ایس پی کے پاس چلے گئے جنہوں رپورٹ تو درج کرائی مگر ملزموں کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی بلکہ ملزوں نے پولیس کی نگرانی میں ضمانت قبل ازگرفتار کرائی،انہوں نے کہاکہ بعدازاں ہمیں پتہ چلا کہ ملی بھگت سے ایف آئی آر میں بھی ردوبدل کرائی گئی جو رشوت اور سیاسی مداخلت کا نتیجہ ہے جس میں ڈی ایس پی محمداسلام،انسپکٹر شیر حسین،ایس ایچ او امجدخان تھانہ آلوچ اور اے ایس آئی عبدالغفار تھانہ کماچ شامل ہیں،انہوں نے الزام لگا یا کہ وزیر اعلیٰ کے مشیر عبدالمعنیم ملزموں کا ساتھ دے رہے ہیں ،انہوں نے آئی جی پولیس صوبہ خیبرپختونخوا،ڈی آئی جی ملاکنڈریجن،وزیر اعلیٰ صوبہ خیبرپختونخوا اور عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں ایک غیر جابندارکمیٹی بناکر تحقیقات کرائیں اور ہمیں انصاف دلائیں۔
760 total views, no views today


