مینگورہ، سوات میں ٹریفک پولیس انچارج نے ہم سے رکشے بند کرکے ہم کو بے روزگا ر کیا ہے ۔ دو ماہ سے دو سو سے زائد قانونی رکشوں کو غیر قانونی طریقے سے بند کر کے تاحال واپس نہیں کی۔ اگر ہمارے رکشے غیر قانونی ہے تو ریکارڈ پر کیوں نہیں لاتے۔ ہزاروں روپئے رشوت کی ڈیمانڈ کو ہم نے مسترد کردی ہے۔ ٹریفک پولیس نے سوات میں اپنا اسٹیٹ بنادیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اور عمران خان ہمارے مدد کریں۔جاوید خان، ایمل خان، خورشید علی اور دیگر رکشہ ڈرائیوروں کا مینگورہ میں میڈیا سے گفتگوکر تے ہوئے کہا کہ ٹریفک پولیس دفتر میں اور دیگر تھانوں میں ہمارے قانونی طور پر رکشے سوات پولیس ٹریفک انچارج کے کہنے پر بند کئے ہیں۔دو ماہ سے تاحال انکے قبضے میں ہے۔رکشہ ڈرائیوروں نے کہا کہ رشوت لینے کے بعد بعض رکشوں کو چھوڑ دیا ہے۔ہم سے بھی رشوت مانگ رہی ہے۔ہمارے پاس ایک وقت کی روٹی کے لئے پیسے نہیں تو ہزاروں روپئے کہا سے انکو دینگے۔ٹریفک ڈی ایس پی صدیق اکبر خان اور ٹریفک انسپکٹر شکیل خان نے سوات میں ظلم کی انتہا شروع کردی ہے۔اور ہمارے بچے دو ماہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہے۔ڈرائیوروں نے کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اور عمران خان سے اپیل کر تے ہیں ۔کہ ہمارے مدد کریں۔اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کریں۔اس حوالے سے ٹریفک دفتر اور پولیس کی ذمہ داروں سے رابطہ کیا تو رابطہ نہ ہوسکا،اے این پی کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری واجدعلی خان،ایم پی اے جعفر شاہ خان،قومی وطن پارٹی ملاکنڈ ڈویژن چیئر مین فضل رحمان نونو،پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور سیدو شریف کے تحصیل ناظم ڈاکٹر خالد محمود خالد نے کہا کہ سوات پولیس پکڑے گئے رکشے لاچار اور غریب لوگوں کو واپس کریں۔اور یہ لاچار اور بے بس لوگوں کو بے روزگار نہ کریں۔اگر صوبائی حکومت لوگو ں کو روزگار نہیں دے سکتا تو کیوں چھیننے کی کوشش نہ کریں ۔آل سوات رکشہ ڈرائیور یونین کے صدر ابراہیم خانخیل نے کہا کہ کافی عرصہ سے ٹریفک پولیس کے ساتھ رکشے قبضے میں ہے ۔بار بار بالا حکام سے لاچار اور غریب ڈرائیوروں کی رکشے چھوڑنے کے لئے رابطہ کیا اور ملے لیکن انہوں نے سوات کو سوات ٹریفک پولیس اسٹیٹ بنادیا ہے۔لیکن رکشوں کو نہیں چھوڑتے ۔انہوں نے کہا کہ غریب ڈرائیورو ں پر حکومت اور پولیس سیاست بند کریں ۔
572 total views, no views today


