مینگورہ ، سوات میں دہشت گردی اور آپریشن کے بعد سوات بچوں سے زیادتی کر نے والے اغواء کاروں کی اسٹیٹ بن گیا۔ تیرہ دن سے زائد بچے کو نامعلوم مقام پر رکھا ،اور تیرہ دن زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس خاموش تماشائی بن گئی ہے۔سوات میں بالا افسران کی سرپرستی اور ہمدردی ملزمان کے ساتھ۔ اصل ملزم تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ ملزم سرے عام گھوم پھیر رہے ہیں۔ پولیس بالا افسران مجھے ملزمان کے لئے بار بار تنگ کر رہے ہیں کہ پیسے لو اور راضی نامہ کرو ورنہ پھر خیر نہیں ہوگا۔ ایک ملزم سجاد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے لیکن اصل ملزم اورنگزیب گرفتار نہیں ہوا۔ دیگر ملزمان بھی ہے لیکن پولیس کیس میں سنجیدہ نہیں۔ متاثرہ بچے کے ہمراہ والد کی مینگورہ میں میڈیا سے فریاد۔ سوات کے عوام بچوں کی اغوائیگی کے بعد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ عوام پریشان ۔ ایک ماہ کے دوارن ایک درجن سے زائد بچے لاپتہ ہوگئے۔ زیادہ تر لاپتہ ہونے والے بچوں کی رپورٹ بھی متعلقہ تھانہ میں درج نہیں کئے جاتے ۔ متاثرہ بچے اور انکے والد نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ ،آئی جی خیبر پختونخواہ،تحریک انصاف کی چیئر مین عمران خان،وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے واقعے پر ایکشن لینے کا انصاف کا مطالبہ۔ تاجر الرحمان سکنہ ملوک آباد زیادتی کا نشانہ بننے والے دس سالہ بچے مہران خان کے ساتھ ہمارے نمائندے کو فریاد کرتے ہوئے بتایاکہ مہران کو ادویات لانے کے لئے میڈیکل سٹور بھیجا۔گرین سے میرے بچے کو نامعلوم موٹر کارسواروں نے دن دیہاڑے نقاب ڈال کرساتھ لے گئے۔ اور تیرہ دن ہاتھ پاؤں باندھ کر تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بچے کے لئے پاکستان میں جگہ جگہ دیکھنے گیا لیکن نہیں ملا۔ لیکن ایک شخص نے مجھے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ آپ کا بچہ مینگورہ نویکلے میں موجود ہے۔ جب میں نے وہاں معلوم کیا ۔تو پولیس کو صبح اطلاع دی۔ لیکن بروقت کارروائی نہیں کی۔اور پہلے ملزمان کو پولیس نے اطلاع دی۔ اور پھر رات کو وہاں چھاپہ مارا۔ لیکن بچہ نہیں ملا۔ ملزمان نے بچے کو نشہ دیکر بریکوٹ کے مقام پر بوری میں بند کرکے ددریائے سوات کے کنارے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔بچے کو آرمی نے برآمد کیا۔پھر ہوش پر آنے کے بعد ٹکٹ دیکر مینگورہ بھیج دیا۔ اور گھرمیرے رشتہ دار نے بازار میں دیکھ کر موٹر کار میں لایا۔ متاثرہ بچہ مہران خان نے بتایا کہ ملزمان نے مجھے تیرہ دن ہاتھ پاؤں سے باندھا تھا ۔اور میرے منہ پر پھٹی بھی لگا تا تھا۔انہوں نے کہا کہ زیادتی کے وقت میرے سر پر پستول رکھ کر کپڑے اتار کر زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔ اور روزانہ نشہ بھی دیتا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت میری ملزمان کو سزا دے۔اور انصاف دے۔ سوات دہشت گردی کے بعد اور کامیاب آپریشن کے بعد زیادتی کا نشانہ بننے والا گروہ اسٹیٹ بن گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس کے بالا افسران کی اس گروہ کے ساتھ ہمدردی حاصل ہے۔
1,412 total views, no views today


