لاہور: سابق چیئرمین پی سی بی کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام نے پاکستان کرکٹ کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے درخواست ہے کہ وہ شہریار خان اور ان کی سرپرستی میں چلنے والی انتظامیہ کو تحلیل کرکے کرکٹ کو تباہی سے بچائیں، میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے چیئرمین ایگزیکٹیوکمیٹی کی حیثیت سے پی سی بی کے اکثر معاملات چلانے والے نجم سیٹھی کو پاکستانی کرکٹ کی بربادی کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین شہریارصرف ’’دستخط کرنے کی مشین ‘‘بن گئے ہیں اور وہ نجم سیٹھی کی تجاویز کیخلاف جانے کی ہمت نہیں رکھتے۔
ذکا اشرف نے انکشاف کیا کہ دو مواقع ایسے تھے جب شہریارخان نے اس وقت کے چیف سلیکٹر معین خان کا کردار کم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ چونکہ نجم سیٹھی کے دوست تھے لہٰذا ایسا نہ کر پائے۔
جب معین خان کی سوشل میڈیا پر کسینو سے نکلتے ہوئے تصاویر منظرِ عام آئیں تو پھرانھیں کوئی نہیں بچا پایا۔پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز میں کسی کرکٹر کے نہ ہونے پرانھوں نے پی سی بی کے تھنک ٹینک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا میری مدتِ ملازمت میں جاوید میانداد اور انتخاب عالم کرکٹ کے امور سنبھال رہے تھے جبکہ اب کوئی کرکٹر پی سی بی کے اہم عہدے پر کام نہیں کر رہا۔شاہد آفریدی کی کارکردگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر آفریدی کو کھیلنا ہے تو پی سی بی کو چاہیے کہ وہ ان کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے انھیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بحالی کے عمل سے گزارے۔
انھوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ میرے دورِ ملازمت میں شاہد آفریدی دو مہینے این سی اے میں کرکٹ بہتر کرنے کے لیے گئے جس کے بعد کافی بہتری نظر آئی،میرا مشورہ ہے کہ عمر اکمل، احمد شہزاد اور دوسرے کھلاڑیوں کو بھی بحالی کے عمل سے گزاریں اور اگر وہ پھر بھی بہتری نہیں دکھاتے تو انھیں ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہنا ہو گا۔
836 total views, no views today


