خوازہ خیلہ، کالاکوٹ پولیس بے تاج بادشاہ بن گئے ، چیک پوسٹ شریف شہریوں کو بے جا تنگ کرنے اور بے عزت کرنے کے آڈے میں تبدیل ، طلباء چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ اور سٹوڈنٹ کارڈاور مکمل باڈی سرچ دینے کے باوجود غیر ضروری پوچھ گچھ تنگ کرنے کے بعد دوگھنٹے تک حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کیا گیا، ڈی پی او سوات نوٹس لیں ، متاثرہ طلباء ِ خوازہ خیلہ لنگر کا رہائشی اعزاز اختر اپنے کچھ کلاس فیلو مہمانوں کے ساتھ سیر و تفریح کے غرض سے براستہ مٹہ روڈ بحرین جارہے تھے کہ پولیس اسٹیشن کالاکوٹ کے سامنے واقع چیک پوسٹ پر ان کی گاڑی کو تلاشی کے غرض سے روک دیا گیا ، جنہوں نے اپنا شناختی کارڈ ، سٹوڈنٹس کارڈ کے علاوہ اپنا شناخت اور مکمل سرچ باڈی دے دی ، لیکن چیک پوسٹ پر موجود سپیشل پولیس فورس کے اہلکار شاہ حسین نے اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے انتہائی غلط رویہ استعمال کرتے ہوئے طلباء کو گالیاں دے کر ان کی سخت بے عزتی کی ، اور طلباء کے ساتھ غیر ضروری اور غیر اخلاقی رویہ اپنا کر انہیں تقریباََ دو گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا ، اور تشدد کا نشانہ بنایا ، بعد ازاں متاثرہ طلباء نے تھانہ ایس ایچ او سہیل خان کو اپنے ساتھ ناروا سلوک کے بارے شکایت کی ، جس پر انہوں اپنے پولیس اہلکار کے دفاع کیااور طلباء کو مزید اذیت کا نشانہ بنایا، وہاں سے مایوس ہوکر متاثرہ طلباء نے میڈیا کے نمائندوں کو فریا د کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ ناروا سلوک اور بے عزتی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ باڈی سرچ کے دوران پولیس نے ہم سے ہمارے ذاتی پرس اور تمام سامان اپنے قبضے میں لیا تھا ، مذکورہ سپیشل پولیس اہلکار شاہ حسین اور ایس ایچ او سہیل خان کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے تاکہ پولیس کے وردی میں ملبوس درندے آئندہ شریف شہریوں کو تنگ کرنے کا سلسلہ روک جائے ، انہوں نے ڈی پی او سوات سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ پولیس میں اس قسم کے پولیس اہلکاروں کے وجہ سے پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ساکھ متاثر ہوررہا ہے جس سے عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے بڑ ھ رہے ہیں ، متاثرہ طلباء نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری انصاف فراہم کی جائے ۔
636 total views, no views today


