مینگورہ، مشترکہ ناظم کونسلرزاتحادبابوزئی نے ملاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذکی سخت مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے فیصلہ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے،اس حوالے سے شعیب خان،یعقوب خان باچا،شاہ بخت روان ،محمدرحمان،اقبال رحمان اوردیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ملاکنڈڈویژن کے بلدیاتی نمائندے اورعوام کسٹم ایکٹ کسی بھی صورت قبو ل نہیں کریں گے کیونکہ یہاں کے عوام مسائل اورمصائب کا شکار ہیں جو ٹیکسوں کے ہرگزمتحمل نہیں ہوسکتے،ملاکنڈڈویژن کے عوام پر پے درپے کئی مصیبتیں آئی ہیں جس کے باعث ان کی زندگی اجیرن بن چکی ہے مگرحکومت کوان لوگوں کے حال پر ترس نہیں آتا اوران مصیبت زدہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر ان کی مشکلات اورپریشانیوں میں مزید اضافہ کرنے کے درپے ہے ،انہوں نے کہاکہ سوات اورملاکنڈڈویژن کے عوام کے زخموں پر مرہم پٹی کی ضرورت ہے مگر حکومت ایساکرنے کی بجائے ان کے زخموں پر نمک پاشی کررہی ہے جو انتہائی قابل افسوس امر ہے،انہوں نے کہاکہ عوام کے مسائل کا کسی کو احساس تک نہیں اگراحساس ہوتا تو ان کے زخموں پر نمک پاشی نہیں کی جاتی،انہوں نے کہاکہ سوات میں روزگار نہیں ،سلک انڈسٹریاں بند پڑی ہیں،سڑکوں کی حالت سب کے سامنے ہے،سیاحت اورمعیشت کی حالت ابتر ہے ایسے میں کسٹم ایکٹ کے نفاذکی بجائے حکومت کو ملاکنڈڈویژن میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے سمیت انڈسٹریوں کی بحالی اور روزگار کے مواقعے پیداکرنے چاہئے،انہوں نے کہاکہ اقتصادی راہداری میں ملاکنڈڈویژن کو شامل کیا جائے اور اس کے علاوہ سوات کی تعمیر وترقی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جبکہ دریائے سوات کے اطراف میں حفاظتی پشتے تعمیر کئے جائیں تاکہ قریبی آبادی سیلابی ریلے کے وقت تباہی سے محفوظ رہ سکے،انہوں نے کہاکہ حکومت ویلج کونسلوں کیلئے دفاتر ان میں سیکرٹریوں کی تعیناتی اور نائب قاصدوں کی کمی کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے تاکہ منتخب بلدیاتی نمائندے بہتر طریقے سے عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل کرسکے،اس موقع پر گوہر علی،اکرام اللہ،عبدالرحمان لالا جی،سعیدالدین اوراتحا دمیں شامل دیگر بلدیاتی نمائندے بھی موجود تھے۔
502 total views, no views today


