ضلع بونیر علم وفن اور تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے وہ خوش نصیب اور شفیق گہوارہ ہے، جس نے اپنی جھولی میں ما قبل تاریخ سے لے کر آج تک بے شمار ایسے ایسے اتالیقوں، دانش وروں، دین مبین کے متوالوں اور انبیاء و بزرگان دین کو جنا ہے، جن کے فیضانِ نظر اور کارناموں کی بہ دولت آج بڑے بڑے علمی حلقے، خاں قاہیں اور دانش کدے مصروف عمل ہیں اور جن کی بہ دولت آج شعر و ادب اور علم و تحقیق کا قافلہ اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔
یہ سرزمین ہر دور میں بڑے بڑے سلاطین ، فاتحین اور علماء و فضلاء اور بزرگان کا دل پسند اور محبوب ٹھکانہ رہی ہے۔ جنھوں نے یہاں اپنی علمی روحانی، سیاسی اور ثقافتی پیاس بجھائی ہے اور دنیا نے انھیں اُدھیانہ اور گندھارا کی حسین وادیوں اور پگڈنڈیوں کی وجہ سے پہچانا ہے۔
علاقہ بونیر اُدھیانہ کی منظور نظر اور زرخیز وادی ہے۔ رام چندر جی کی روحانی پیاس یہاں بجھی۔ سکندر اعظم نے ایلم کی مشہور چوٹی پر سوما کا رس پیا تھا۔ محمود آف غزنی کا لشکر یہاں سے ہوکر گزرا۔ بدھ مت کی علمی، روحانی اور انسانیت دوست تعلیمات یہاں کی پہاڑوں اور میدانوں میں پھیلتی گئیں۔ ملندہ کا زریں عہد یہاں کے در و دیوار میں پروان چڑھا۔ ساکا، ستھین اورہُن بھی اس وادی کے حسن عشق میں گرفتار رہے۔
اس طرح پیرباباؒ نے عبادت و ریاضت اور چلہ کشی کے لیے بونیر ہی کو من پسند علاقہ قرار دیا۔ اکبر اعظم کے لیے یہاں کے قبائل سب سے بڑی رکاؤٹ بنے اور پہاڑی قبائلیوں کے تین بڑے گیٹ (امبیلہ، خدوخیل اور چکدرہ) کو قابو کرنے اور اُن کو محصور کرنے کے لیے بہت بڑا حملہ کیا۔ نتیجتاً کڑاکڑ اور ملندری کے پہاڑ، کمین گاہیں اور عمیق کھائیاں اُن کے ہزاروں لشکریوں کا مقتل اور دائمی استقرار ٹھہریں۔
غرض اسی مٹی نے آئے روز انقلابی سوچ کے مالک اور حق پرست علماء کا ایک ایسا ٹولہ بھی پیدا کیا، جو اپنی مٹی، اپنی قوم اور اپنے یوسف زئ سورماؤں کے ساتھ ہر محاذ پر دشمن کے خلاف ڈٹے رہے۔ ان میں جداگانہ اسلوب کا مالک، عالم ومحقق، وقائع نگار اور پشتون زبان و ادب کا محسن اخوند درویزہ باباؒ ہے، جو بونیر کی اسلامی تاریخ کے پہلے محقق، صاحب تصنیف اور پشتو نثر کے بانیوں میں سے ہیں۔
1,286 total views, no views today


