مینگورہ، جمعیت علماء اسلام ف کے دیرینہ کارکنوں کو نظراندازکرکے جمعیت کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،مرکزی اور صوبائی قائدین نوٹس لیں اورجمعیت کو تباہی س بچائیں،ان خیالا ت کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے سابق ضلعی امیر مولانا حجت اللہ نے گذشتہ روز مدرسہ معارف القرآن محلہ لنڈیکس مینگورہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،مولانا حجت اللہ اوردیگر مقررین نے کہاکہ آج دس اپریل کو مجلس عمومی کا جو اجلاس طلب کیا گیا ہے اس میں دانستہ طورپر مجلس عمومی کے وہ اراکین جو دستوری طورپر انتخاب کے اول اجلاس میں جنہوں نے شرکت کی تھی ان ایک سو پچاس اراکین مجلس عمومی کو دعوت نامے نہیں دئے گئے جو کہ ان کا دستوری حق ہے لہٰذہ ایسا محسو س ہوتا ہے کہ ایک بار پھر ضلع سوات میں جمعیت کو دودھڑوں میں تقسیم کیا جارہاہے اورضلعی امیر وجنرل سیکرٹری جمعیت کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ دستور پر کوئی عمل نہیں ہورہا اراکین مجلس عمومی جنہیں دعوت نامے جاری نہیں کئے گئے یہ جماعت کے دیرینہ اور پرانے کارکن ہیں جنہوں نے ہروقت میں جمعیت کیلئے قربانیاں دی ہیں لہٰذہ ضلعی مجلس عمومی کے یہ پرانے کارکن صوبائی جماعت اورمرکزی جماعت دونوں سے پرزورمطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ضمن نوٹس لیں اور جماعت کے مایوس کن فضاء اورانتشار کو ختم کرنے میں کرداراداکریں اورغیر جانبدارتحقیق کرکے جماعت کو مزیدتباہی سے بچائیں،اجلاس میں مولانا محمد عالم،مولانا نور محمد،قاری مشتاق،قاری عبدالوہاب ،مولانا بشیر احمد ،ضیاء الدین،قاری امداداللہ،حافظ الدین،نسیم اللہ ،مولانا گل باچا اوردیگر بھی موجودتھے۔
666 total views, no views today


