بریکوٹ، عوامی نیشنل پارٹی نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس ایکٹ کے نفاذ کے خلاف علاقہ کوٹہ میں زبردست مظاہر ہ کیا اور حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی ۔اسپیشل فورس کے تنخواہوں کو جلد ازجلد دیا جائے اور انہیں فوری طور پر مستقل کیا جائے ۔اگر یکم مئی تک تنخوائیں نہ دے دی گئی تو راست اقدام اٹھائیں گے کیونکہ اسپیشل فورس نے مخدوش صورت حال کے دوران سوات میں بہت قربانیاں دی ہیں اور انہوں نے جان کی قربانی دی مگر عوام کے تحفظ کو یقینی بنایااور امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ۔ آج اسپیشل فورس کی قربانیوں کا صلہ یہ ہے کہ ان کی تنخواہیں بند کردی گئیں ہیں ۔اے این پی نے اپنے دور حکومت میں کٹھن صورت حال کے باوجود بڑے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائیں ہیں اور بہت سے منصوبوں پر اب بھی کام جاری ہے ۔ہم چیلنج دیتے ہیں کہ موجود ہ حکومت سوات میں ایک میگا پراجیکٹ منظوری کے شواہد فراہم کردیں اگر انہوں نے ثابت کردیا تو سیاست چھوڑ دیں گے ۔ان خیالات کا اظہار سابق ایم پی اے وقار خان ،سابق ایم پی اے شیر شاہ خان ،سابق اقلیتی سنیٹر امرجیت ملہوترا ، خور شید خان ،محمود خان ،بختیار خان ،تحصیل کونسلر فضل اکبر خان ،محمد وہاب خان ،تلاوت خان ،امین اللہ خان ،ظاہر شاہ خان ،محمد ایوب باچہ ،واحد کرم خان،ابراہیم دیولئی ،پرویز خان کے علاوہ دیگر نے علاقہ کوٹہ میں ورکرز کنونشن اور بعد میں ٹیکس نفاذ کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کے دوران کیا ۔انہوں نے کہاکہ اصل تبدیلی اے این پی نے لائی ہے صرف تحصیل بریکوٹ میں ہم نے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر،سوئی گیس پر عملی کام کا آغاذ ،شموزئی فیڈر کی منظوری ،ٹی ایم اے کا قیام ،نادرا کے دفتر کو بریکوٹ منتقلی کے علاوہ دیگر منصوبے شامل ہیں مکمل کردئیے ہیں ۔آج پختون قوم کے خلاف جو سازش جاری ہے تاریخ میں نہیں ملتی کیونکہ پختون قوم کے بچے کو قلم کے بجائے بندوق دیا جارہا ہے ،ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس ایکٹ کے ممکنہ نفاذ میں وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت برابر کے شریک ہے مگر اے این پی کے ہوتے ہوئے کوئی مائی کا لعل یہاں پر ٹیکس کا نفاذ نہیں کرسکتاہے ۔مزید براں انہوں نے کہاکہ سواتی عوام پر رحم کیا جائے یہاں کے سڑکیں تعمیر کیا جائے ۔روزگار فراہم کیا جائے نہ کہ ان سے روز گار چھینا جائے فوری طور پر دریائے سوات سے ریت اور بجری نکالنے پر پابندی ختم کیا جائے تاکہ علاقے میں تعمیر اتی کام جاری ہواور مزدور کو دو وقت کی روزی میسر ہو ۔اگر سوات کے ساتھ یہ مظالم جاری رہے تو اے این پی چھین سے نہیں بیٹھے گی ۔
638 total views, no views today


