مختلف قسم کے معاشرے دنیا بھر میں موجود ہیں ،اسی طرح لوگوں کی بھی مختلف اقسام ہوتے ہیں کوئی ایک طبقے کا ہوتا ہے تو کوئی دوسرے طبقے سے تعلق رکھتا ہے ،ہر ایک کی بولی ایک دوسرے سے مختلف ،کوئی چٹا تو کوئی کالا ۔سب کی سوچ وفکر مختلف ،
مختلف مذاہب کے لوگ بھی معاشرے کا حصہ ہیں ،مسلمان ،ہندو ،سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ معاشرے میں رہتے ہیں ۔انسان کے پیدائش کے ساتھ ہی اس کے کان اور دوسرے اعضاء کام شروع کردیتے ہیں،وہ ارد گرد کے حالات محسوس کرتا ہے وقت کے ساتھ بڑا ہونے پر اس کے منہ سے مختلف قسم کے آوازیں مما،پاپاوغیرہ سنائی دیتی ہیں انسانی زندگی کا کٹھن مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ بڑا ہو نے لگتا ہے ۔
والدین کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے لاڈلے کو تعلیم وتربیت کیلئے اسکول میں داخل کرائیں تا کہ اس کی اچھی پرورش ہوسکے ۔مگر بدقسمتی سے ملک کا موجودہ نظام تعلیم یہ خواب پورا کرنے میں کامیاب نہیں ۔
سرکاری سطح پر اسکولوں میں داخلہ مہم کا اغاز ہوچکا ہے ،حکومتی سرپرستی میں بچوں کے داخلے کیلئے اقدامات جاری ہیں ہر سال یہ عمل دہرایا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکول میں داخل کرایا جاسکے ۔
مگر جب ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے کہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کا عمل تو قابل تحسین ہے لیکن بے شمار اسکول ایسے ہیں کہ جس میں سہولیات کا فقدان ،کلاس رومز کی کمی اور اساتذہ کی غیر حاضری سمیت کئی طرح کے مسائل کسی اور طرف اشارہ کررہے ہیں ۔
میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ خود اساتذہ کی تعلیم وتربیت کا ہے کیونکہ ہم آج بھی اسکولوں میں مار کا رواج دیکھ رہے ہیں ۔
نرسری کلاس سے بچوں کو ڈنڈا دکھا کر پڑھائی کی طرف لانے کی کوشش بے سود ہے ۔موجودہ دور میں ڈنڈے کا رواج تعلیمی اداروں میں طالب علموں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہورہا ہے ۔
اس کے بہ جائے اگر طالب علموں کو خوش اخلاقی اور پیار سے تعلیمی ماحول میں لانے کی سعی کی جائے تو یہ ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے جس سے بچہ اپنے تعلیم کو ایک بہتر انداز میں جاری رکھ کر مستقبل مفید شہری بننے کے ساتھ ملک وقوم کے ترقی میں اہم رول ادا کرسکتا ہے ۔
محسوس کرنے کی بات ہے کہ جب نرسری کا ایک بچہ کم سنی کے باوجود والدین کے بغیر صبح سے دوپہر تک کا طویل وقت اجنبی ماحول میں گزارتا ہے تو یہ اس کیلئے کتنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔
ایک واقعہ کا ذکرکررہا ہوں ،ایک طالب علم کو اسکول میں داخل کرایا گیا ،وہ باقاعدگی سے اسکول آتا ،ایک دن کلاس میں کسی بات پر استاد نے اسے مارا وہ خوف ذدہ ہوکر چیخے مارنے لگا،کلاس فیلوز استاد کے خوف سے خاموش رہے لیکن جب بریک کا وقت آیا تو تمام کلاس فیلوز نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا ۔جس سے اس بچے کے دل کو بہت ٹھیس پہنچی ۔
جب وہ چھٹی کے بعد گھر لوٹا تو خاصا پریشان رہا ،اگلی صبح جب ماں نے اٹھنے اور اسکول جانے کیلئے آواز دی تو اس بچے نے پچھلے دنکے واقعے کے خوف سے ماں کو جواب دیا کہ !
“مما میں آج اسکول نہیں جاونگا ” ماں کہتی ہے کہ بیٹا کیا ہوا ہے ؟ بچے نے کہا کہ مما استاد مجھے مارتے ہیں اس لئے پڑھائے میں دل نہیں لگ رہا ہے ۔
اس طرح کے واقعات سے بچے اسکول نہ جانے کی جانب راغب ہوتے ہیں ،پڑھائی اور اسکول سے نفرت شروع ہوجاتی ہے ۔اس لئے حکومت اور تعلیم کیلئے کام کرنے والے اداروں کے ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کے روک تھام کیلئے پہلے اساتذہ کی ٹریننگ کریں ۔
دا خلہ مہم کے ساتھ اگر تعلیمی اداروں کے حالت زار کو بہتر بنایا جائے تو اس کے مثبت نتائج برامد ہرکر ملک وقوم کی مستقبل کو تابناک بنایا جا سکتا ہے ۔
1,078 total views, no views today


