بریکوٹ، وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے معاؤن خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجدعلی نے کہاہے کہ دریائے سوات پر ٹیکس کا نفاذ صوبائی حکومت نے نہیں بلکہ ضلعی ناظم نے کیا ہے ۔ریت اور بجری نکالنے سے غریب خاندان مستفید ہوتے ہیں اور ہم ریت اور بجری پر ٹیکس کے نفاذ بھرپور مخالفت کروں گا۔صوبے میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے خلاف سب سے پہلے میں نے استفعی پیش کیا تھا اور اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہوں ۔ملاکنڈ ڈویژن پر کسی بھی صور ت میں کسٹم ایکٹ کے نفاذکو نہیں مانتے اور اس کے خلاف ہر فورم پر آوا ز اٹھائیں گے ۔ جو لوگ آج صوبائی حکومت کے خلاف ا حتجاجی مظاہرے کررہے ہیں وہ اپنے دور حکومت میں اپنے گھر وں تک محدود تھے لیکن آج صوبائی حکومت نے صوبے میں امن قائم کرکے ان کو سیاسی میدآن میں اتر کر ہمارے خلاف احتجا ج کرنے کے قابل بن گئے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بریکوٹ میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے کے عوام کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھارہی ہے ۔صوبائی حکومت کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ غریب عوام کوزیادہ سے زیادہ ریلیف دی جائے نہ کہ غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھینا جائے ۔ضلع سوات میں دریائے سوات کے ریت اور بجری پر ٹیکس صوبائی حکومت نے نہیں نفاذ کیا ہے بلکہ اس کے نفاذ کا ذمہ دار ضلعی ناظم ہے ۔دریائے سوات پر ٹیکس کا نفاذ لوکل گورنمنٹ نے انکم آف سورس کے تحت لگائی ہے جو سیاسی پارٹیاں اپنی سیاسی سکور کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ضلعے میں ان سیاسی پارٹیوں کی حکومت ہے ریت بجری ٹیکس کے ذمہ داریہی پارٹیاں ہیں اور اب الٹا الزامات صوبائی حکومت پر لگاتے ہیں جو کہ حیران کن ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ملاکنڈ ڈویژن پر کسٹم ایکٹ کے نفاذ پر تمام لوگوں نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے میں نے اس ٹیکس کے خلاف سب سے پہلے اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا کیونکہ مجھے وزارت سے زیادہ اپنے عوام کے حقوق کی تحفظ زیادہ عزیز ہے ۔
420 total views, no views today


