سوات ، یونی ورسٹی آف سوات میں لڑکیوں کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں ، نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے اس بارے میں تحقیقات کئے جارہے ہیں، چیف پراکٹرکو معطل کردیاگیاہے، آفتاب احمد ترجمان سوات یونی ورسٹی ، سوات یونی ورسٹی سیدوشریف کیمپس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یونی ورسٹی کے ترجمان آفتاب احمدنے کہاکہ یونی ورسٹی آف سوات کے اپنے قواعد ہے اور اس کے مطابق نوٹس اور اہم اعلانات جاری کئے جاتے ہیں
جوکہ عموما یونی ورسٹی کے رجسٹرار اور وائس چانسلر جاری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چیف پراکٹر کے نام سے ایک نوٹس جاری کیاگیاہے جس میں یونی ورسٹی میں لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک ساتھ پڑھائی، گومنے پھرنے پر پابندی اور جرمانے کا حکم جاری کیاگیاہے جوکہ چیف پراکٹر کے دستخط کے ساتھ ہے۔ ترجمان نے کہاکہ کہ یونوٹس غیر قانونی ہے اور سوات یونی ورسٹی میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے لڑکیاں آزادانہ طور پر علاقے کے روایات کے مطابق پڑھائی کرسکتی ہے۔ یونی ورسٹی کی ذمہ داری ہے کہ تمام طلباﺅطالبات کو یکساں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کریں تاہم نوٹس جاری ہونے کے بعد وائس چانسلر نے تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے اور کمیٹی کے رزلٹ آنے تک چیف پراکٹر کو معطل کردیاگیاہے۔ تاکہ معلوم ہوسکیں یہ نوٹس کس نے اور کس کی ایماپر جاری کیاہے۔
239 total views, no views today


