دفترسے گھرآتے وقت لاشعوری طورپر درازکھولا تو اس میں وہ کتاب پڑی نظر آئی جس کے ٹائٹل پر جسم کے تمام حصوں سے یکسرمحروم صرف ایک ہاتھ بنایاہوا ہے جس نے اوپرکی طرف ایک انگلی اٹھارکھی ہے جہاں واضح اورنمایاں الفاظ میں ،،خداگواہ،، لکھانظرآتاہے ،یہ کتاب ایک ہفتہ قبل مجھے تحفے کے طورپرعلاقہ کوکارئی کے ایک شفیق اورمخلص دوست آفرین خان کے ہاتھ بجھوائی گئی تھی جو اس وقت میں نے درازمیں رکھی اور دفترسے گھر جاتے ہوئے وہی پر بھول گیا اس وقت میری طبیعت ناساز تھی اور گھرپہنچاتوبخار کی بھٹی نے لپیٹ میں لے کرکئی دنوں تک بسترسے اٹھنے نہیں دیا اوریہی صورتحال اس کتاب کو دفترکے درازمیں کئی دنوں تک پڑے رہنے کے اسباب بنی،کتاب اٹھاکر لایا ٹٹولا بلکہ اس کا مکمل الٹراساؤنڈکیا، ٹائٹل کافی پرکشش اوردلفریب ہے جسے سوات کے نوجوان پینٹر اورآرٹیسٹ مراد نے مزین کیا ہے ،کتاب 255صفحات پر مشتمل ہے،انتساب بھی دیگر کتابوں سے منفردہے ،پہلے ہی نشست میں کتاب کے دومضامین ،،بنجارہ ،،اور،، جس گاؤں میں گنجا رہتا ہے ،،پڑھ ڈالے ،ثانی ذکر مضمون،،جس گاؤں میں گنگا بہتی ہے ،،نام کی فلم سے ملتاجلتا ہے،دیگر مضامین پرسرسری نظرڈالی ہے مگر اس پر بس نہیں تمام کتاب مکمل طورپر پڑھ کرہی چھوڑوں گا۔
تین ناموں پر مشتمل اس ایک شخصیت 1فضل مولا 2زاہد3خان جی کی تحریں مختلف اوقات میں ویب سائٹس اور اخبارات کے ایڈیٹوریل پر پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں مگرکتاب کی شکل میں پہلی بار ملیں جس میں ان کی شخصیت کی طرح مختلف مزاجوں،مزاحوں اورمداحوں کے حوالے سے تحریریں پائی جاتی ہیں جنہیں پڑھتے وقت ازخود چہرے پر اگر کئی بار بلاکی سنجیدگی چھاجاتی ہے تو باربار مسکراہٹ بھی پھیلتی ہے جوموصوف کے طرزتحریر کا کمال ہے۔
255صفحات پر مشتمل ،،خداگواہ ،،کی تحاریر میں خان جی نے ذہن اورقلم کاجس کمال سے استعمال کیا ہے وہ واقعی قابل دادہے ،وہ الفاظ کے ساتھ بڑے عمدہ طریقے سے کھیلتے ہیں ،ان کا کوئی مضمون پڑھنے بیٹھ جاؤ تو ادھوراچھوڑنے کو دل ہی نہیں کرتا ،دل کرے یا نہ کرے مگر ان کا طرزتحریر قاری کی آنکھیں اور دھیان بھٹکنے ہی نہیں دیتا، اپنے گاؤں کوکارئی کے حوالے سے جو مضمون،،جس گاؤں میں گنجا رہتاہے،، لکھا ہے اس میں تو خان جی نے حد کردی ہے ،ایسے اندازمیں نقشہ کھینچاہے کہ پڑھنے والے کو ایسامحسوس ہوتا کہ وہ اس وقت مینگورہ شہر سے نکلا اور مختلف دیہاتوں اور گاؤں سے گزرتاہوا کوکارئی جارہاہے اور مضمون کے آخر میں یقیناقاری خود کو کوکارئی میں موجود محسوس کرتاہے ،کم از کم میرے ساتھ تو یہی ہوا ،صرف یہ نہیں بلکہ ا ن کے تمام مضامین کاسیرحاصل مطالعہ کرتے وقت قاری مختلف مقامات کی سیر کرسکتا ہے۔
کتاب کے ہر مضمون کے بیچ وبیچ میں موقع کی مناسبت سے خان جی نے مختلف شعراء کے اشعار کو بڑی مہارت کیساتھ صفحہ قرطاس پر بکھیردیا ہے جس نے تحریروں اور مضامین کا ذائقہ دوبالا کردیا ہے ،ایک ایک مضمون باربارپڑھنے کا قابل ہے،اس کتاب میں تفریح ،معلومات ،ادب ،مزاح اوروہ سب کچھ دیکھنے کو ملتا ہے جسے باذوق لوگ چاہتے ہیں، اب انٹرنیٹ کا زمانہ ہے جس نے لوگوں اورکتابوں کے مابین فاصلے پیداکرکے ان کا آپس کا رشتہ ہی ختم کردیا ہے ایسے میں ،،خداگواہ،،لکھنا واقعی بڑے دل گردے کا کام ہے اوراس مشکل کام کو خان جی نے کردکھایا اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ان کی اس کوشش سے کس حدتک استفادہ کرتے ہیں؟؟
یقینازاہد صاحب لفظوں اور حروف سے کھیلنے والے لکھاری ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی کتاب ابھی زیر مطالعہ ہے مگر دومضامین نے ہی میری رگ تحریر اس قدر پھڑکائی کہ چندٹوٹے پھوٹے الفاظ کو یکجاکرکے زیرنظرتحریرلکھنے پر مجبورہوگیاکہ کتاب لکھنے پر ہم خان جی کو اوردے ہی کیا سکتے ہیں ؟بقول کسی شاعر ،،میرے دامن میں کانٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں ،،کیونکہ خداگواہ ہے کہ فکرمعاش، نامساعدحالات ، مصروفیات اورمسلسل کوتاہیوں نے تو ہمارے اشتیاق تحریر کے گلے میں جیسے زنجیریں ڈال دی ہیں مگرپھر بھی تین ناموں پر مشتمل اس ایک شخصیت کی دادرسی اورحوصلہ افزائی کیلئے چندصفحات سیاہ کرنے کی کوشش کی کہ یہ ہم خودپر ان کا حق سمجھتے تھے اور حقِ بندگی ہم اداکر چلے۔
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازبیاں اور
۔۔۔۔
724 total views, no views today


