پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے اقلیتوں کے اُمور کے مشیر سردار سورن سنگھ کی آخری رسومات اتوار کو پیر بابا بونیر میں ادا کردی گئی ہیں۔ سردار سورن سنگھ کی آخری رسومات میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، اور سکھ برادری کے علاوہ بڑی تعداد میں مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی ہے۔ سورن سنگھ کی آخری رسومات اسی شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں جس کا افتتاح گذشتہ سال خود انھوں ہی نے کیا تھا۔
سورن سنگھ کو کل شام ضلع بونیر میں پیر بابا کے مقام پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ سردار سورن سنگھ کا آبائی گھر پیر بابا میں ہے۔ پولیس حکام کے مطابق سورن سنگھ پر حملے میں ملوث مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اُن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعہ کے فورا بعد سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا تھا
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان عمر خراسانی نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے ۔عمر خراسانی نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ سورن سنگھ کو اقلیت کی وجہ سے نہیں مارا گیا بلکہ اس کی وجوہات کچھ اور ہیں جس کا علم حکومت اور اس کے اداروں کو ہے۔
310 total views, no views today


