بریکوٹ ، شموزئی کے عوام نے علاقہ چکدرہ کو جانے والے تمام آبپاشی کے واٹر چینلز بند کرنے پر کام شروع کردیا ۔بھاری مشینری کا استعمال اور علاقے کے عوام ہزاروں کی تعداد میں راموڑا کے مقام پر دریائے سوات پہنچ گئے ۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے رونماء کے پیش نظر بھاری پولیس نفری تعینات کردی گئی۔انتظامیہ اور معاؤن خصوصی ڈاکٹر امجدعلی کے ساتھ بار بار مذاکرات ناکام ہوگئے ۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک مذاکرات مکمل طور پر ناکام رہے ۔شموزئی کے عوام کے احتجاجاً شموزئی سے جانے والی واٹر چینلز نے کام دکھاتے ہوئے فوری طور پر کمشنرملاکنڈ نے فیشنگ ہٹ کے مقام پر اہم اجلاس طلب کرلیا ۔شموزئی فیڈر کی تکمیل تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا کیونکہ اپنے علاقے کے عوام کے حقوق پر کسی بھی قسم کی سودا بازی نہیں کی جائے گی یہاں پر اس وقت تک موجود رہوں گاجب تک اس مسلئے کا پائیدار حل نہ نکلاہو۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ کئی سالوں شموزئی فیڈر پر کام جاری تھا مگر ضلع دیر کے ممبران اسمبلی بخت بیدار خان ،مظفر سید ،واصال خان ،حسین شاہ ،دربار ملاکے علاوہ ادینزئی جرگے نے اسی سیاسی ایشو بنا دیا اور اس سلسلے میں کئی بار معاؤن خصوصی ڈاکٹر امجدعلی نے ان لوگوں کے ساتھ جرگے معرکے کئے مگر ہر بار انہوں نے جرگوں سے فرار ہوئے اور اپنے کئے ہوئے وعدوں سے مکر جاتے ۔شموزئی فیڈر کے مسلئے پر معاؤن خصوصی ڈاکٹر امجد علی ،بلدیاتی نمائندوں نے کئی بار الٹی میٹم بھی دئیے کہ ہم علاقہ چکدرہ کو آبپاشی کے تمام ذرایع ختم کردیں گے مگر کسی نے بھی اس طرف توتوجہ نہیں دی اور الٹا گذشتہ دنوں ایم پی اے بخت بیدار خان نے علاقہ راموڑا کے مقام پر بجلی کے پولز اکھاڑ دئیے ۔اس حوالے سے معاؤن خصوصی ڈاکٹر امجد علی نے کہاہے کہ بہت افسوس کی بات ہے کہ شموزئی فیڈر پر نوے فیصد کام مکمل ہوچکاہے مگر ضلع دیر کے منتخب نمائندے بخت بیدار خان ،مظفر سید ،واصال خان ،حسین شاہ ،دربار ملاکے علاوہ ادینزئی جرگے نے اس مسلئے میں منفی کردار ادا کیا اور الٹا بجلی کے پولز اکھاڑ کر قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیا مگر آفسوس کہ وہاں کے انتظامیہ نے اس پرکوئی ایکشن نہیں لیا اور اس کے برعکس انہیں تحفظ دیا ۔شموزئی کے عوام نے مجبور ہوکر علاقہ شموزئی کے مقام پر چکدرہ کو تمام جانے والی آپباشی نظام کو ختم کرنے کے لئے واٹر چینلز بند کرنے پر عمل اقدام اٹھایا ۔انہوں نے کہاکہ اب ہمیں ذمہ داروں سے تحریر ی معاہدہ لیا جائے اور آئندہ بھی شموزئی فیڈر میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز کرنی ہوگی تو ہم بعد میں واٹر چینلز بحال کردیں گے کیونکہ اب یہ مسلۂ پوری قوم کا ہے ۔بعد میں اے سی اسسٹنٹ کمشنر بریکوٹ ملک دل نواز خان ،اسسٹنٹ کمشنر چکدرہ ،اے اے سی بریکوٹ محمد فہیم خان ،قومی وطن پارٹی ملاکنڈ زون سیکرٹری جنرل صدیق علی خان ،ال ویلیج کونسل ناظمین صدر فضل ودود باچا،تحصیل ناظم بریکوٹ گوہر ایوب خان ، تحصیل نائب ناظم ڈاکٹر عزت الرحمان ،ضلعی کونسلر سید باچا حسین ،تحصیل کونسلر نیک علی ،ضلعی کونسلر اصغر علی ،ضلعی کونسلر،پی ٹی آئی رہنماء محمد شاہ خان زمین خان ،ویلیج ناظمین اعجاذ خان ،جیدار خان ،احسان الحق ،عزیز الرحمان ،خاندان ،پاکستان مسلم لیگ(ن) ضلعی رہنماء بخت جمیل خان موجودتھے ۔ا نتظامیہ نے معاؤن خصوصی ڈاکٹر امجدعلی کے ساتھ مذاکرات میں اس بات پر زور دیا کہ آج واٹر چینلز پر کام بند کردیں اور جرگہ میں شرکت کریں اور اگر آپ لوگوں کے مطالبات نہ مانے گئے تو بے شک اپنا احتجاج برقرار رکھیں جس پر ڈاکٹر امجدعلی نے دوٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہاکہ گذشتہ تین سالوں سے مسلسل جرگے اور مذاکرات کرتے چلے آرہا ہوں مگر کسی نے بھی جرگے کا برام نہیں رکھا جس کی وجہ سے علاقہ شموزئی کے عوام مشتعل ہوکر چکدرہ کو مذید آبپاشی کے لئے اپنے زمینوں سے پانی دینے کو تیار نہیں ہیں ۔انہوں نے کہاکہ شموزئی بھی پاکستان کا حصہ ہے اور محکمہ واپڈا نے سرکاری طور پر شموزئی فیڈر کو منظور کرکے کروڑوں روپے خرچ کرچکے ہیں مگر محکمہ واپڈا کی نااہلی کی وجہ سے آج یہ مسلۂ جوں کا توں ہے ۔
612 total views, no views today


