سوات، پاکستان باالخصوص سوات قدرتی وسائل سے مالامال ہے جہاں ادویاتی نباتات وافر مقدار میں موجود ہیں جن سے استفادہ کرکے ملک کی معاشی ترقی کا عمل تیزترکیا جاسکتاہے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ودودیہ ہال سیدوشریف میں منعقدہ نیشنل سیمپوزیم آن اکنامک ڈیولپمنٹ تھروپلانٹس کلٹیویشن اینڈکنزرویشن سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نباتات نے کیا۔ دوروزہ سیمپوزیم کا اہتمام یونیورسٹی آف سوات کے سنٹرفارپلانٹ سائنس اینڈ بائیو ڈائیورسٹی نے کیاہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی آف سوات کے وائس چانسلر ڈاکٹر جہان بخت نے کہا کہ اللہ نے سوات کو قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ ادویاتی نباتات کی مختلف نایاب اقسام سے بھی نوازا ہے
انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کی انسانی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت ہے اور ان کا مناسب استعمال انسان کی جسمانی صحت مثبت اثرات مرتب کرتاہے۔ اُنہوں نے یونیورسٹی آف سوات کے طلباء و طالبات اور متعلقہ فیکلٹی ممبران پرزوردیا کہ وہ تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کارلاکرقدرتی جڑی بوٹیوں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ سیمپوزیم سے اپنے خطاب میں مہمان خصوصی زرعی یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر ڈاکٹرظہور احمد سواتی نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے جہاں نہ صرف سونے ، کوئلے ، قدرتی گیس اور دیگر قیمتی پتھروں کے وافرذخائر موجود ہیں بلکہ یہاں ادویاتی نباتات کی مختلف اقسام بھی بڑی مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سوات قدرتی جڑی بوٹیوں کے حوالے عالمی شہرت کاحامل علاقہ ہے جہاں حسین مناظر کے ساتھ اس خطہ ارض نے اپنے سینے میں ایک وافر مقدار میں قدرتی جڑی بوٹیوں کو بھی محفوظ کئے رکھا ہے۔ اُنہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنے تحقیق کے زریعے نایاب جڑی بوٹیوں کو دریافت کرکے اُنہیں ملک کی معاشی ترقی کے لئے بروئے کارلانے میں کردار اداکریں۔ سیمپوزیم کے چیف آرگنائزر رجسٹراریونیورسٹی آف سوات ڈاکٹر حسن شیر نے ادویاتی نباتات سے متعلق اپناپراجیکٹ پیش کیا۔ اُن کی تحقیق کے مطابق عالمی سطح پرنباتات کے ہونے والے کُل 60 بلین امریکی ڈالرکے بزنس میں سوات 66.6 ملین روپے مالیت کی ادویاتی نباتات برآمد کر رہا ہے جبکہ پاکستان مجموعی طور پر10.46 ملین ڈالرکی جڑی بوٹیاں برآمدکرتاہے۔ سیمپوزیم سے ممتام ماہرنباتات ڈاکٹرعاشق احمد، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید اور قائداعظم یونیورسٹی کی ڈاکٹرنویدہ اخترنے بھی خطاب کیا۔
379 total views, no views today


