باغ: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے الیکشن تاریخی اور اہم ہیں اگر یہاں سے (ن) لیگ جیت گئی تو سمجھوں گا کہ نواز شریف اور مودی کی دوستی کی حمایت کی گئی۔آزاد کشمیر کے شہر باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم کے خاندان کا نام سامنے آنے کے بعد وزیراعظم کے بیانات نے انہیں مشکل میں ڈال دیا ہے ہم پاناما لیکس کے معاملے کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں لیکن وزیراعظم نہ اسمبلی میں آرہے ہیں اور نہ ہی اپوزیشن کے مطالبات مان رہے ہیں
۔ مشترکہ اپوزیشن نے پاناما لیکس کے حوالے سے چند سوالات کئے ہیں لیکن انہیں بھی جواب نہیں دیا جارہا، پاناما لیکس پر وزیراعظم کو جواب دینا ہی پڑے گا لیکن لگتا ہے کہ حکومتی کشتی لیک ہوکرہچکولے کھارہی ہے۔
چئیرمین پیپلز پارٹی نے وزیراعظم نوازشریف کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کوٹلی میں وہی الفاظ دہرائے تھے جو آپ نے پیپلزپارٹی کے منتخب وزیراعظم کے لئے کہے تھے، آپ نے پیپلز پارٹی کے منتخب وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا آج ہم آپ سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں یا آپ کہیں کہ اس وقت آپ غلط تھے یا میرا مطالبہ مان لیں اورگھر چلے جائیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیرکا الیکشن اہم اورتاریخی ہے، اگر یہاں سے (ن) لیگ جیت گئی تو ایسا لگے گا کہ وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی ہم منصب نریندر مودی کی دوستی کی حمایت کی گئی ہے، مودی وہ شخص ہے جو ہزاروں مسلمانوں کا قاتل ہے جسے کئی ممالک اپنے ملک کا ویزہ دینے سے بھی گریز کرتے ہیں لیکن ہمارے وزیراعظم نے ان سے دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی سالگرہ کا بھی کیک ان سے کٹوایا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی بات کی جائے تو وہاں بھی چھوٹو گینگ نے چھوٹے میاں صاحب کی گڈ گورننس کا پول کھول دیا، چیف منسٹر پنجاب ہاؤس میں بیٹھے چھوٹو گینگ کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا، تخت رائیونڈ کی ناکام پالیسی سے غربت بڑھ رہی ہے، (ن) لیگ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں بھی ناکام ہوگئی ہے اور ایک اورنج ٹرین کے لئے 5 گرجا گھروں کو گرایا جارہا ہے۔
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپورنے بھی جلسے سے خطاب کیا اورجذبات میں آکروہ بلاول بھٹو زرداری کو شہید کہہ گئیں۔
301 total views, no views today


