بریکوٹ ، صوبہ خیبر پختون خوا کے بشمول دریائے سوات کے مچھلیا ں پراسرار بیماری کا شکار ہوچکے ہیں ،محکمہ ماہی پرور ی کے اعلیٰ احکام پراسرار بیماری کے اسباب کا تعین کرنے کے لئے اقدامات اٹھارہے ہیں۔ محمکہ ماہی پروری نے ڈی سی او سوات کو دریائے سوات پر دفعہ 144لگانے کے لئے اور ڈی ایچ او سوات کو مچھلی کا انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے معلوم کرنے کے لئے لیٹر جاری کردئیے گئے ہیں ۔ محکمہ ماہی پروری کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ابر ار نے کہا کہ یہ موسم مچھلی کے انڈوں کے دینے کا ہے اور اس دوران مچھلی بہت نازک ہوتی ہے اس پراسرار بیماری کی وجہ سے مچھلی کے ر گ پھول ہوکر مر جاتے ہیں ۔ہم نے متاثرہ مچھلیوں کے نمونے ملک کے مختلف لیبارٹیوں کو بجھوائے ہیں مگر ابھی تک اس کا رزلٹ نہیں ملا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم نے ڈی سی سوات کو دریائے سوات پر دفعہ 144لگانے کے لئے لیٹر ارسال کئے ہوئے ہیں اور اسی طرح ڈی ایچ او سوات کو بھی متاثرہ مچھلی کے کھانے سے انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے کو معلوم کرنے کے لئے لیٹر ز ارسا ل کئے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ احتیاطً عوام دریائے سوات کے مچھلی کھانے سے پرہیز کریں کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ انسانی صحت کے لئے مضر ہو۔انہوں نے کہاکہ میں پشاور ڈائریکٹ آیا ہوں اور لیبارٹری کے رزلٹ کا انتظار کررہا ہوں کہ اس پراسر ار بیماری کی اصل وجوہا ت کیا ہے ۔اس بارے میں اسسٹنٹ کمشنر بریکوٹ ملک دل نواز خان سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہاکہ شکارحضرات فوری طور پر مچھلی کا شکار نہ کریں اور جب تک اس بارے میں اصل حقائق سامنے نہ آئیں ہوں عوام مچھلی کا استعمال ترک کردیں ۔
652 total views, no views today


