بریکوٹ سوات سے ریاض احمد
سوات کو وزیر اعظم پاکستان کا دورہ سوات یقینی ہوگیا اوراب گراسی گرؤانڈ میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف جلسہ عام سے خطاب کریں گے اس
جلسے کے لئے کارکن تیاریوں میں مصروف ہیں اب بھی لنڈاکے سے مینگورہ اور دیگر علاقوں میں ا ن کے لئے خوش آمدید کے بڑے بڑے سائن بورڈز آوازں کئے گئے ہیں ۔پارٹی کارکن وزیراعظم کے دورے کے شدت سے انتظار ہے کہ وہ سوات کا دورہ کرکے سوات کیلئے میگاپراجیکٹس کا اعلانات کریں کیونکہ سوات میں پارٹی کی پوزیشن مستحکم تھی مگر اب اس کی مقبولیت میں کافی حد تک کمی آئی ہے ان کے دور ہ سوات سے پارٹی عہدیداروں کو امید ہے کہ ان کے دورے سے پارٹی مستحکم ہوجائے گی ۔اگر وزیر اعظم نے سوات کا دورہ اگر ملتوی کرہوتاتو پارٹی کارکنوں کے ساتھ ساتھ سواتی عوام کے امیدوں پر بھی پانی پھیر دیتے۔ سوات پر دونوں عشرے بہت کٹھن گذرے ۔زلزلے،سیلاب،طالبانائزنشن اور اپریش جسیے آفات گذرے ہیں اور اب بھی دن بد ن ان کے مسائل میں اضا فہ ہوتا جار ہاہے ۔سوات کے عوام کیلئے وزیراعظم کیا کیا اعلانات کریں گے اور ان اعلانات پر عملی طور پر کتنی حد تک عمل ہوگا یہ خود وقت ثابت کرئے گا مگر اب وزیراعظم کے دورے سے پہلے کچھ نہ کچھ فائدہ شروع ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کے دورے کے اعلان کے ساتھ ہی سنگوٹہ روڈ ریکارڈ وقت میں این ایچ اے نے بہترین میڑیل سے تعمیر کردیا جبکہ لنڈاکے سے مینگورہ تک روڈ جوکہ ناقابل استعمال تھا پر مرمت جاری ہے۔اب مرمت کے بعد اس روڈ کی عمر کتنی ہوگی قبل ازوقت کہنا مناسب نہیں ہوگاکیونکہ اس روڈ کے نکاس اب کا کوئی خاص بندوبست نہیں ہے اس سے قبل چکدرہ سے مانیار تک 26کلومیٹر روڈ پر تقریباً 12کروڑ روپے خرچ کرکے تعمیر کیا گیا مگر بدقسمتی سے اس روڈ نے اپنی سالگرہ بھی نہیں منایا کہ ٹھوٹ پوٹ کا شکار ہوگیا اور اب دوبارہ اسی روڈ پر مرمتی کام جاری ہے ۔اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ سواتی عوام کے ساتھ این ایچ اے کا کیا سلوک ہے اور اگر یہ کہاجائے کہ سازش کے طور پر سوات کے روڈ کو کھنڈرات میں تبدیل کیا جا رہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔دنیا کا واحد روڈ سوات کا ہے جہاں پر نکاس اب کا کوئی بندوبست نہیں ہے ،لنڈاکے سے مینگورہ تک بہترین روڈ سابق جنرل پرویز مشرف کے دور1999میں تعمیر ہوا اس کے بعد مسلسل اس سڑک کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے ۔ گذشتہ روز وزیر اعظم مشیر امیر مقام نے بریکوٹ میں پارٹی کارکنوں سے اپنے خطاب میں کہاکہ لنڈاکے سے خوازہ خیلہ روڈ یواے ای کے تعاون سے تعمیر کیا جائے گا جبکہ خوازہ خیلہ سے کالام تک روڈ ورلڈ بینک کے تعاون سے بہت جلد شروع کیا جائے گا ۔اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے سوات کے لئے دو ارب روپے منظور کئے ہیں جس پر بھی ہر یوسی کی سطح پر ترقیاتی کام شروع کئے جائیں گے ۔انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان کے جلسہ کو کامیاب کرانا ہمارا اولین فرض ہوگا اور ہم ثابت کریں گے کہ سوات پاکستان مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے اور وزیر اعظم پاکستان کا دورہ صرف سوات کے لئے نہیں بلکہ پورے ملا کنڈ ڈویژن کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرے گا ۔ گذشتہ روز ال پارٹی فورم میں مختلف سیاسی عہدیداروں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان کا دورہ سوات یہاں کے عوام کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔موجود ہ وفاقی حکومت کے تین سال گذر گئے مگر سوات میں کوئی ترقیاتی عمل شروع نہ کرسکا انہوں نے وزیراعظم سے مطالبات کرتے ہوئے کہ سب سے پہلے ملاکنڈ ڈویژن پر کسٹم ایکٹ کا نفاذ ختم کرے ،سیاحت کے فروغ کے لئے سیدوشریف ائر پورٹ کو دوبارہ بحال کرے اوراسے اپ گرڈ کیاجائے ،ہوٹل انڈسٹری کے فروغ کے لئے موثر اقدامات اٹھائیں جائیں ،روزگار کے مواقع فراہم کیا جائے ،دریائے سوات پر دونوں اطراف سڑک کی منظوری دی جائے تاکہ بہترین پشتے ہوکر قیمتی اراضیاں محفوظ ہوسکیں اور ساتھ ساتھ دریائے سوات پر بجلی پیدا کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں گے ،خواتین یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے ۔پی ایم ایل (ن) پی کے 82کے صدر تلاوت خان نے وزیر اعظم کے دورے کے بارے میں کہا کہ ہمیں اس دورے سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ انشاء اللہ وزیراعظم پاکستان سوات کا دورہ کرکے سوات میں ایک نئے دور کا آٖغا ذ ہوگا ۔
1,382 total views, no views today


