اسلام اباد،خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے سابق صدر پرویز مشرف کے وکلاء کی جانب سے جانبداری کے الزامات پر کیس کی سماعت سے معذرت کر لی۔ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ جانبداری کے الزامات پر کیس کی کارروائی مزید نہیں چلا سکتے۔جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے غداری کیس کی سماعت شروع کی
تو انور منصور نے پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کی تصیح سے متعلق درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کبھی نہیں کہا گیا کہ پرویز مشرف کے آنے کا ارادہ نہیں اتنا کہا ہے کہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر پرویز مشرف نہیں آسکتے،جبکہ عدالت نے لکھا ہے کہ ملزم جان بوجھ کر عدالت میں نہیں آنا چاہتا۔
انور منصور نے کہاکہ عدالت نے فیصلے میں یہ بھی لکھ دیا کہ ملزم 31 مارچ کی صبح خود پیش نہ ہو تو اس کو گرفتار کر کے لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ درست نہیں، جس طریقہ کار سے سماعت کی جارہی ہے اس سے مطمعن نہیں۔ جس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اگر آپ مطمئن نہیں تو میں سماعت نہیں کرتا۔
جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ عدالت غیر جانبدار نہیں تو ہم بھی اس کیس کارروائی کو مزید نہیں چلاسکتے۔ جسٹس فیصل عرب نے کیس کی سماعت سے معذرت کی اور کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے جس کے بعد بینچ کے دیگر دو ججز بھی کمرہ عدالت سے چلے گئے۔
689 total views, no views today


