مینگورہ ، سوات میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں آئے روز اضافے سے سوات اور شانگلہ کے عوام میں خوف و ہراس کی فضاء قائم ہوگئی ہے اور اب تک ٹارگٹ کلنگ کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے سال 2016میں پولیس پر حملوں میں تیزی آگئی ہے ڈی ایس پی لیگل محمد الیاس سمیت چار اہلکار شہید ہوئے جبکہ پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں سوات میں ایک بار پھر پولیس اور امن کمیٹی کے ممبران کی ٹارگٹ کلنگ میں تیزی کیوجہ سے عوام میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے اور لوگ ذہنی مریض بن گئے ہیں عوامی سماجی حلقوں نے سوات میں ٹارگٹ کلنگ پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئے روز ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے لیکن اب تک ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سوات میں پولیس محفوظ نہیں ہے تو باقی عوام کا خدا ہی حافظ عام لوگ اپنے اپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں یاد رہے کہ 12 اپریل کو سوات میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ڈی ایس پی کو دن دھاڑے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا لیکن قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا سکا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس نے فرنٹ فورس کا کردار ادا کیا ہے اور امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا لیکن اج ایک مرتبہ پھر پولیس اور ویلج کمیٹیوں کے ممبران دہشت گردوں کے نشانے پر ہے جس کی وجہ سے عوام میں تشویش کی کی لہر دوڑ گئی ہے پولیس اور سیکورٹی ادارے فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کریں تاکہ عوام میں پھیلی ہوئی بے چینی دور ہو سکیں۔
626 total views, no views today


