مینگورہ ، سوات تعلیمی بورڈ کی کارستانیاں مخصو ص تعلیمی اداروں کو پوزیشن دینے کاانکشاف، بورڈ کے پرچے ایک ماہ قبل آؤٹ، پری بورڈ امتحانات میں آنے والے پرچے سالانہ امتحان میں شامل کردیئے گئے۔ سوات تعلیمی بورڈ میں بدعنوانی اور اقرباپروری کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آگئے۔ سرکاری سکولوں کے طلبہ کو نمایاں پوزیشن دینے کے لئے پرچے آؤٹ کردیئے گئے۔ کئی طلبہ نے میڈ یا کوایک ماہ قبل جاری شدہ پرچے دکھائے جوکہ بعد میں سالانہ امتحان میں دوبارہ بچوں کے دیئے گئے۔ سوات تعلیمی بورڈ کے زیرانتظام گیارہویں جماعت کا ارد وکا پرچہ مارچ کے مہینے میں مینگورہ ڈگری کالج کے پری بورڈ امتحان میں بچوں سے لیاجاچکا ہے جبکہ بورڈ کے سالانہ امتحانات اپریل میں ہورہے تھے۔ وہی پرچہ لفظ بہ لفظ بورڈ کے زیر اہتمام امتحانات میں تقسیم کیاگیا اور باقاعدہ طور پر طلبہ سے حل کرایاگیا۔ متعدد طلبہ اور ان کے والدین نے میڈیاکو بتایاکہ سوات بورڈ میں ایک عرصے سے اقرباپروری، بدعنوانی، پیسے لے کر من پسند ممتحن کو مند پسند امتحانی مراکز دیئے جاتے ہیں۔ کچھ دنوں قبل طلبہ کے والدین نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایاکہ سوات بورڈ اور سکولوں کے درمیان تنازعات میں بچے متاثرہورہے ہیں۔ اس لئے سوات بورڈ کے عملے کولگام دیاجائے۔ پریس کانفرنس میں طلبہ کے والدین نے الزام لگایاکہ جو تعلیمی ادارے سوات بورڈ کے عملے کو رشوت اور تحفے نہیں دیتے۔ ان اداروں میں زیر تعلیم بچوں کو بے جاتنگ کیاجاتاہے۔ اب آؤٹ پرچہ منظرعام پرآنے کی وجہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سوات بورڈ میں بدعنوانی عروج پرپہنچ چکی ہے۔ اس کے اہلکاروں سے پوچھنے والاکوئی نہیں۔ آؤٹ پرچے کے حوالے سے جب چیئرمین سوات بورڈ فضل رحیم سے رابطہ کیا گیاتوانہوں نے کہاکہ یہ پرچہ ملاکنڈ بورڈکے عملے نے تیارکیاتھا اور اس پروفیسرکے خلاف کارروائی کے لئے ملاکنڈ بورڈ کو لکھاجاچکاہے۔ ان کی اس بات سے معلوم ہوتاہے کہ ان کواس بے قاعدگی کے بارے میں معلوم تھا مگرپھر بھی انہوں نے پرچہ کینسل نہیں کیا۔ مخصوص تعلیمی اداروں کو پوزیشن دینے کے لئے بدعنوانی پر آنکھیں بند کردی گئیں جبکہ باوثوق ذرائع کے مطابق سوات بورڈ کا پرچہ سوات ہی کے ایک پروفیسرنے تیارکیاہے اور اس بدعنوانی میں کئی افراد ملوث بتائے جاتے ہیں۔تحقیقات کرنے پر مزید سنسی خیز انکشافات متوقع ہیں
480 total views, no views today


