بریکوٹ، پی کے 81وارڈ کوٹہ کا دورآفتاد علاقہ بلو کلے میں ایک سال پہلے شدید بارشوں کے دوران خوڑ پر رابطہ پل دریا برد ہوگیا ۔ مقامی ایم پی اے ،ایم این اے اور دیگر ارباب اختیار کو باربار یاد دہانی کے باجود پل تعمیر نہ ہوسکا ۔عدم تعمیر کی وجہ سے پانچ دیہات کے لوگ خوڑ کراس کرتے ہوئے پانی میں جاتے ہیں جس کی وجہ سے علاقے کے عوام کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔اس سلسلے میں گذشتہ روز بریکوٹ کے صحافیوں نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور فورم کا انعقاد کیا ۔فورم میں علاقے کے مکینوں حسین نواب ،بہرام خان ،عبدالغفور ،اکبر حسین ،حسین نواب ،محمد ابرار ،تاجیم خان ،طالب علم کبل خان ،محمد سہیل اور اختر حسین نے فریاد کرتے ہوئے کہاکہ تقریباً چھ سال پہلے آپریشن کے دوران پاک آرمی نے یہاں کے عوام کے مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوکلے اور دیگر پانچ بانڈہ جات نری بنڑ ،شاہ بنڑ ،شاہ جئی ،ککے بانڈہ ،سر بانڈہ وغیر ہ کے ہزاروں نفوس پر مشتمل علاقے کیلئے پل تعمیر کیا جس پر یہاں کے عوام نے سکھ کا سانس لیا ۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ سال شدید بارشوں میں خوڑ میں تغیانی آکر پل کو اپنے ساتھ بہہ کرلے گیا ایک سال کا عرصہ گذر گیا مگر ابھی تک دوبارہ تعمیر نہ ہوسکا ۔انہوں نے کہاکہ بارشوں کے دوران پورا علاقہ محصور ہوجاتا ہے ۔طلباء اسی دن سکول سے چھٹی کرکے گھرواپس چلے جاتے ہیں جبکہ بیماری کی صورت میں مریض کو طبی امداد دینے کے لئے ہسپتال نہیں لے جاسکتے ۔انہوں نے کہاکہ بارشوں کے دوران چند ماہ پہلے مریض کو ہسپتال لے جاتے ہوئے مگر رابطہ پل نہ ہونے اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونے کی وجہ سے مریض چل بسا ۔ جس پر علاقے کے عوام نے احتجاج بھی کیا مگر ارباب اختیار اور عوامی نمائندے ٹھس سے مس نہیں ہوئے ۔ ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے پی کے 81کے ممبرصوبائی اسمبلی عزیز اللہ خان اور ایم این اے مراد سعید کو کئی بار یاد دہانی کرائی اور انہوں نے یہاں کے دورے بھی کئے مگر تاحال کچھ نہ ہوسکا ۔ اوراب اس پل کی تعمیر یہاں کے مکینو ں کے لئے خواب بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے بنیادی سہولیات کی فراہمی ہمارا حق ہے مگر انصاف کے دورمیں بے انصافی کہاں کا انصاف ہے ۔یہ پل کب تعمیر ہوگا ممبران اسمبلی کے لئے سوالیہ نشان ہے ۔
502 total views, no views today


