بریکوٹ، پی کے 82میں پاکستان تحریک انصاف اپنے ہی سونامی کا شکار ہونے کا خدشہ ۔دوسروں کو کلین بولڈ کرنے والے خود کیچ ہونے کا قوی امکان۔پارٹی کا دیر ینہ کارکن اور سابق پی کے 82کا صد ر انجینئر شرافت علی جس کا کئی ماہ سے پارٹی رکنیت معطل کیا گیا ہے اسی دوران انہوں نے پارٹی کے لئے ہزاروں کی تعداد میں رکنیت سازی کی مگر اپنی رکنیت کافی جدوجہدکے باوجود بحال نہ کرسکے اور نہ مستقبل قریب میں رکنیت بحالی کے کوئی مثبت اثار نظر آرہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے باخبر ذرائع کے مطابق اب ان کے دیرے میں دیگر پارٹیوں کے قائدنوں نے ڈیرے ڈالنے شروع کردئیے ۔ہر پارٹی کی یہی خواہش ہے کہ وہ ان کے ساتھ شمولیت اختیار کرلیں ۔باخبر ذرائع کے مطابق جے یوآئی نے ان کے ساتھ رابطے کرنے پر پی کے 82کے ٹکٹ دینے کا وعدہ بھی کردیا ہے ۔اسی طرح جماعت اسلامی کے کئی اہم قائدین بھی ان کے ہاں پارٹی میں شمولیت کے دعوت کے لئے آتے جاتے ہیں ۔قومی وطن پارٹی ،اے این پی کا بھی یہی حال ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سابق پی کے 82و تحصیل بریکوٹ صدر انجینئر شرافت علی کا شمار پارٹی میں ان کارکنوں میں شمار ہوتاہے جنہوں نے پارٹی کے لئے ہر قسم کی قربانیاں دی ہیں اور وہ کارکنوں میں بے حد مقبول ہیں ۔گذشتہ سال ان کے جیل جانے پر کارکنوں نے سخت غم و غصے کا اظہار بھی کیا تھا اور آج بھی وہ پارٹی میں ایک الگ مقام رکھتے ہیں ۔عام انتخابات میں ان کا مقامی ایم پی اے کے ساتھ اختلافات پیدا ہوگئے ۔کئی بار ایم پی اے نے ان کی رکنیت ختم کرنے کے کئی نوٹس ارسال کئے مگر اس بار 22مارچ 2016کو ممبرسازی کے دوران ایم پی اے نے ان کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا جس میں وہ کامیاب رہے ۔انجینئر شرافت علی کے پارٹی رکنیت کے خاتمے پر پارٹی کارکنوں نے خوب احتجاج کیا مگر بے سود رہا ۔اس بارے میں انجینئر شرافت علی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ دیگر پارٹیوں کے قائدین کا مسلسل میرے ساتھ رابطے ہورہے ہیں مگر عید کے بعد پارٹی کارکنوں اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مشاورت کرکے مستقبل کا فیصلہ کروں گا ۔
832 total views, no views today
Comments


