بریکوٹ،سوات میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کی وجہ سے برف کی قیمت میں چار گنا اضافہ ،ماہ رمضان سے پہلے برف بلاک کارخانے سے چار سو روپے میں مقامی ڈیلر کو ملتا تھاجبکہ اب یہی بلاک چھ سو سے آٹھ سو روپے میں مقامی ڈیلرخرید رہا ہے ۔جب عام صارف پربلاک کی قیمت میں چارگنا اضافہ کرکے تقریباً چودہ سے سولہ سو روپے میں فروخت کیا جاتاہے ۔انتظامیہ بے بس تماشائی کا کردار ادا کرتے ہوئے روزداروں کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوؑ دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق عموماً سوات اور خصوصاً تحصیل بریکوٹ رمضان المبار ک میں شدید گرمی ،لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج نے برف کی قیمت میں حد درجہ اضافہ کردیا ہے ۔مشروبات میں برف کا استعمال لوگوں کے لئے ناممکن ہورہاہے ۔اس مقد س مہینے میں جہاں سبزیاں ،پھل اور دیگر اشیاء خوردنوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اب رہی سہی کسر برف کی حد سے زیادہ قیمت نے پوری کردی ۔برف کارخانے کے ما۔لک سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاکہ رمضان سے پہلے برف کی قیمت تین سو سے چار سو روپے فی بلاک تھی مگر اب اس کی قیمت بڑھ کر چھ سو روپے ہو گئی ہے جس کی وجہ میرا کارخانہ مکمل طورپر جنریٹر پر ہے ۔ایک سو ال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جو کارخانے بجلی پر چلتے ہیں ان کی قیمتیں کم ہونی چاہیں ۔بریکوٹ کے مقامی برف ڈیلر نے کہاکہ ہمیں فی بلاک آٹھ سو روپے میں ملتا ہے جبکہ رمضان سے قبل یہی بلاک تین سوروپے میں ہمیں فراہم کیا جاتاتھا ۔کارخانے والے جب برف کی قیمتیں بڑھاتے ہیں تو مجبوراً ہم بھی مہنگی برف فروخت کرتے ہیں ۔اس بارے میں ویلیج نجیگرام نائب ناظم واجد خان شلمانی نے کہاکہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتے ہی روزہ داروں کو لوٹنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتاہے ۔برف کی قیمت میں اچانک اضافہ اور وہ بھی روزہ دار کی قوت خرید سے باہر سمجھ سے بالاتر ہے ۔کارخانوں کے مالکان اپنے من مانے قیمتوں پر برف فروخت کرکے انتظامیہ کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے ۔انہوں نے صوبائی حکومت اور انتظامیہ سے فوری طور پر مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ برف کی قیمتیں کم کرکے روزہ داروں کو ریلیف دیاجائے اور ان منافع خوروں اور لٹیروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کرے۔
588 total views, no views today


