روضہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے طرف سے ایسی عبادت ہے جو تمام انبیاء کے قوم پر فرض کیاگیا،دوسرے عبادت کے مقابلے میں روزہ ا یک مخفی عبادت ہیروزہ دار کی کیفیت کسی پر عیان نہیں ہوتا وہ خدا اور بندے کے بیچ خفیہ معاہدہ ہوتاہے،اگر ہم نماز پڑھتے ہیں ،زکواۃ دیتے ہیں ،حج ادا کرتے ہیں اللہ کے راہ میں جہاد کرتے ہیں سب لوگوں کو اسکا علم ہوتاہے ،لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا واسطہ صرف خداہ سے براہ راست ہوتا ہے ،اگر چھپکے سے کوئی کھا،پی لیں ہے تو صرف اللہ اسکو دیکھ سکتاہے ،باقی انسانوں کو کچھ معلوم نہیں ہوتا،روزہ تزکیہ نفس کا بہترین ذریعہ ہے اسلئے رب کائینات نے اس کے اجر کا ذمہ خودہی لیاہے ،اللہ رب کریم کے مہربانی کی انتہا کو دیکھیں کہ یہ بند مومن گیارہ مہینے سایہ فگن کر لیتاہے کہ اس میں عبادات کا بہانہ بناکر انکے گناہ معاف کرلیتاہے،اگر ہم تھوڑا سا سوچیں تو رمضان کا مہینہ ہمارے لئے ایک معززمہمان ا ور محترمہ ملاقاتی کا درجہ رکھتاہے،جوایک سال کے طویل عرصہ کے بعد ہمارے دروازے پر دستک دیتاہے،اور ہم سے روزانہ ہمارے گناہ معاف کرنے کے اپیل کرتاہے،یہ ایک شوق عظیم ہے جسکے طرف دل لپکتے نہیں،گنہگار اس کے منتظر رہتے ہیں تاکہ اسکے بابرکت لمحات میں گناہوں سے تائب ہوجائیں ،عبادات گزار اور اطاعت شعار لوگ اس کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اپنے عبادت و اطاعت میں اضافہ کرسکیں ،اس مبارک مہینہ میں دن کو روزہ رات کو قیام دن اور رات کے اوقات میں اعمال صالح ،الودہ نفس کا تزکیہ زنگ الود کا تصفیہ ،رحمت رب کا حصول ،مغفرت نفس کا نزول،جہنم سے آزادی،آتش دوزک سے نجات،رب کے خوشنودی اعمال صالح کے قبولیت،یہ قابل رشک خوبصورت لمحات امت مسلمہ کو سال بھر کے وقفہ سے مئیسر اتاہے،ر ب کائینات کا عظیم رحمت کا کرشمہ ہے،اس مہینے کے سنہرے لمحات ،رب کریم سے بہتر تعلقات اور شیطان سے جان چھڑانے کا بے نظیر موقع ہے ،اس عظیم فرصت کو اپنے لئے غنیمت کا موقع ہر مسلمان کے اپنے اختیار میں ہے اس مہینہ میں مومن کو اہل خانہ،دوستوں،محلہ دار اور سب سے بڑھ کر اپنے خالق ومالک کیساتھااخلاص وخلوص ،وفاداری اور خیر خواہی کے ساتھ سلوک کرنا چاہئے،اس مبارک مہینہ کو دوسرے مہنیوں کے طرح فضولیات میں نہیں گزارنا چاہئے،یہ نیکیوں کا موسم بہار اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بھرا مہینہ سال کیسے نصیب ہوتاہے ،لہذایہ مہینہ اپنے گناہوں کے معافی کا آخری موقع تصور کرنا چاہئے۔وقت کا ضیاع اس مہینہ میں مومن کیلئے بہت بڑی نقصان کا سبب بنتاہے،یہ مہینہ خوش نماء لباس بنانے ۔دسترخوان کو مختلف قسم خوراکوں سے سجانے کا نہیں یہ مہینہ ناجائز منافع خوروں کیلئے نہیں یہ مہینہ اپنی قسمت کو بدلنے اور اس قیمتی فرست کو اپنے لئے ایک امتحان گاہ کے طور پر تصور کرنے کے بعد بقیہ زندگی گزارنے کیلئے منصوبہ بندی کرنا چاہئے،تاکہ بعد میں آنے والے زندگی بھی اسلامی اصولوں کے مطابق بسر ہوسکے،اور نہ ختم ہونیوالے زندگی کے تیاری بھی کریں ،دلوں میں کروت،حسد،اور بغض پیدا کر نے کا سب بڑا سبب غیبت اور چغلی ہے ،ہمارے معاشرے میں یہ محفلوں اور مجلسوں کا مرغوب پھل بن گیاہے،لوگ اپنے نشست اور برخاست کے مواقع پر یہ پھل کھائے بغیر نہیں رہ سکتے،لہذا اگر رب کائینات سے بخشش کا ارادہ ہوتو اس پورے مہینہ میں زبان پر قابو پانا ہوگا،یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ہم اس بابرکت مہینہ میں خود کو پوری طرح رب کریم کے حوالے کردیں اور قرآن کریم کو اپنا شعار بناےءں ناظرہ سے ختم قرآن کرلیں کسی اچھے تفسیر کا معائینہ کریں ،کم از کم ایک حدیث کے ایک کتاب کو روزمرہ مطالعے کا حصہ بنائیں انبیاء کرام ،خلفاء راشدین اور خصوصا اپنے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کا مطاعلہ ضرور کریں ،اس مہینہ میں صدقہ کو روز مرہ کا معمول بنائیں ، ہمارے ارد گردایسے بہت سارے حاجت مند ہونگے جن کے پاس افطاری کا انتظام نہ ہوگا،ان کی افطاری اور بچوں کیلئے عید کے کپڑوں کا اہتمام کیاجائے،دن رات کو ایک منصوبہ بندی کے ساتھ عبادات اور با الخصوص تہجد کا ضرور اہتمام کیا جائے،اس عادت کو نہ صرف رمضان تک محدود رکھا جائے بلکہ اپنی پوری زندگی میں اسکو بحال رکھنے کی کوشش کی جائیاس مبارک مہینہ میں انٹرنیٹ اور موبائیل کا مکمل بائیکاٹ کیاجائے،آج معاشرہ جتنا بگاڑ ہے یہ صرف اور صرف مغرب کی طرف سے ہمارے اوپر مسلط کردہ انٹر نیٹ اور موبائیل کیوجہ سے ہے ،انہیں کیوجہ سے ہمارا قیمتی وقت ان فضولیات میں ضائع ہوجاتاہے ،دن بدن قرآن سے ہمارا واسطہ کم ہوجاتاجارہاہے،ہمارے بچے خدا اور رسول سے دور ہوتے جارہے ہیں ،ہمارے بچے آجکل مغرب کے نرسری میں پل رہے ہیں اور بہت جلد انکو اپنی ہی ملک میں مغرب کی مکمل ماحول مل جائیگا،اپنے اصلاح کیساتھ بچوں کے اصلاح کی بھی فکر کریں ،اس مہینہ کو امتحان کیلئے تیاری کا مہینہ تصور کریں ،اسمیں خوب نیکیاں کمائیں ،خود کو ہرقسم کی برائیوں سے بچائیں ،اور اس مہینہ کو عید الفطر کے دن پر قربان نہ کریں ،بلکہ سال باقی 11مہینہ بھی اس تیاری سے استفادہ کریں ،تو وہ دن دور نہیں جب ہم سے دنیاوی زندگی میں بھی اور اخرت میں بھی سروخرو ہونگے (انشا اء اللہ )
1,462 total views, no views today
Comments


