بریکوٹ،اے این پی یو نین کونسل بریکوٹ میں انتخابات کے دوران اختلافات کی شروعات ہونے لگے ۔انتخابی عمل میں یو سی کی صدارت پر دو پارٹی کارکن پرویز خان اور ناصر خان انقلابی کے مابین رسہ کشی جاری رہا ۔بعد میں ضلعی ارگنائز نگ کمیٹی کے قائدین نے باہمی رضامندی سے پرویز خان کو صدرجبکہ ناصر خان انقلابی کو جنرل سیکرٹری کے عہدے دے دئیے۔جس پر پارٹی کارکنوں نے سکھ کا سانس لیا مگر بعد میں ضلعی ارگنائز کمیٹی کے عہدیدارن اور تحصیل بریکوٹ کے پارٹی قائدین بیٹھ کر کابینہ تشکیل دیا جس پر کارکنوں نے واک اوٹ کیا
واک آوٹ میں فضل اکبر خان ،فضل الہی عرف بالی خان ،فضل معبود خان،اے این پی بریکوٹ صدر افتخار خان ،سینئر نائب صدر شہزاد ہ فہد،ڈپٹی جنرل سیکرٹری تنویر خان ،جائنٹ سیکرٹری منظور الہی ،نیشنل یوتھ ارگنائزیشن یو سی بریکوٹ کے ڈپٹی ارگنائزر طیب خان ، گل آباد کے صدر روشن خان کے علاوہ دیگر کارکن بھی شامل تھے۔فضل اکبر خان کو سئنیر نائب صدر کا عہدہ دیا گیا جبکہ فضل معبود کو پریس سیکرٹری کا عہدہ ملا مگردونوں نے اپنے عہدوں سے مسعتفی ہوگئے ۔فضل اکبر خان نے فضل الہی عرف بالی خان کو کابینہ میں شامل نہ کرنے پر سازش قرار دیا اور اپنے ساتھیوں سمیت الیکشن سے بائیکاٹ کیا ۔وہا ں پر موجود کارکنوں نے میڈیا کو بتایا کہ موجودہ کابینہ میں ایسے کارکنوں کو شامل کیا گیا ہے جن کا پارٹی کے لئے کوئی خاص خدمات نہیں ہیں اور بدقسمتی سے بریکوٹ میں پارٹی کو جن کارکنوں نے تقویت بخشی ہے اور انہوں نے ہر دور میں پارٹی کے ساتھ دیا ہے جن کو مخدوش حالت میں طالبان سے قتل کی دھمکیاں بھی ملی تھیں مگر وہ ان کے مقابلے میں ڈٹے رہے مگر آ ج ان کو کابینہ سے اس طر ح غائب کیا گیا جیسے ان کا وجود ہی نہیں ۔اے این پی تحصیل بریکوٹ میں کھلے عام کوئی اختلافات نہیں تھے مگر اب یو سی بریکوٹ کے انتخابات کے دوران جو اختلافات شروع ہوگئے اور ان اختلافات کا بروقت خاتمہ نہ کرنا اے این پی کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔یہ اختلافات ضلعی سطح تک پہنچ سکتے ہیں اور ان اختلافات کی وجہ سے پارٹی بلدیاتی الیکشن میں ناکامی کا سامنا بھی کرسکتی ہے ۔
423 total views, no views today


