مینگورہ،جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹر ی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو کسی بھی صورت سیکولر سٹیٹ نہیں بننے دیا جائیگا، اب اگر شریعت نافذ نہ کی گئی تو یہ ملک آگے نہیں چل سکے گا، کپتان خان نے مثالی صوبے کی بجائے بے حیائی ، فحاشی اور لینڈ مافیا کو فروغ دیا ،دہشت گردی کی ا ڑ میں شریعت کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جے یو ائی دس سال طالبان کیساتھ مذاکرات کرنے کی باتیں کررہی ہے، اسلامی قانون نافذ کیا گیا تو اسی فیصد مسائل حل ہوجائیں گے،صوبے میں اسلامی اقدار بچانے کیلئے ہر ممکن جدوجہد کرینگے
ان خیالات کااظہار انہوں نے گراسی گراؤنڈ میں تحفظ تہذیب اسلا م کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر صوبائی نائب امیر مولانا عطاء الرحمان،سابق سنیٹر مولانا راحت حسین ،جے یو ائی ملاکنڈڈویژن کے امیر ،نائب امیر ،سابق ممبران اسمبلی بھی موجود تھے،جے یو ائی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جے یو ائی ملک بھر میں دہشتگردی ختم کرنے کیلئے عملی طورپر جدوجہد کررہی ہے،جس کیلئے قبائلی عمائدین پر مشتمل جرگہ بھی تشکیل دیا گیا تھا ،لیکن ان کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی اور ان لوگوں کی کمیٹی تشکیل دی گئی جو قبائلی رسم ورواج سے نابلد ہیں اور جو سنجیدہ بھی نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ جے یو ائی ہمیشہ سے امن کی بات کررہی ہے، اور امن شریعت کے نفاذ سے ہی ممکن ہے،پاکستان میں اگر 73 کا ائین کے اسلامی دفعات کو عملی طور پرنافذ کئے جائیں تو اس ملک کے اسی فیصد مسائل حل ہو جائیں گے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے مرکزی قائد کپتان خان نے صوبہ کو مثالی بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے صوبے میں بے حیائی ، فحاشی ، لینڈ مافیا ،کرپشن اور این جی اوز کو کھلے عام چھٹی دیدی ۔ اگر مثالی امن یہ ہے تو ہمیں یہ نامنظور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی بھی صور ت سیکولر سٹیٹ نہیں بننے دیا جائیگا اور اگر اس سلسلے میں کوشش کی گئی تو جمعیت کا ہر کارکن اخری سانس تک اس کی مخالفت کریگا، انہوں نے کہا کہ اگراس ملک کو ازادی کے وقت سیکولر بنانے کا نعرہ بلند ہوتا تو ہمارے اکابر کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیتے ، 41 سال گزرنے کے باوجود ملک میں اسلامی نظام نافذ نہ ہونا ہی مسائل کی جڑ ہے ۔
443 total views, no views today


